¶ تب یہ پانچ آدمی آگے نکلے اور سفر کرتے کرتے لَیس پہنچ گئے۔ اُنہوں نے دیکھا کہ وہاں کے لوگ صیدانیوں کی طرح پُرسکون اور بےفکر زندگی گزار رہے ہیں۔ کوئی نہیں تھا جو اُنہیں دباتا یا اُن پر ظلم کرتا۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ اگر اُن پر حملہ کیا جائے تو اُن کا اتحادی شہر صیدا اُن سے اِتنی دُور ہے کہ اُن کی مدد نہیں کر سکے گا، اور قریب کوئی اتحادی نہیں ہے جو اُن کا ساتھ دے۔
TSK
TSK · یسعیاہ 47:8
مراجع Treasury of Scripture Knowledge في کتابِ مقدّس.
¶ جو کچھ بھی کرے اُس میں وہ کامیاب ہے۔ تیری عدالتیں اُسے بلندیوں میں کہیں دُور لگتی ہیں جبکہ وہ اپنے تمام مخالفوں کے خلاف پھنکارتا ہے۔
¶ اُس وقت قادرِ مطلق رب الافواج نے حکم دیا کہ گریہ و زاری کرو، اپنے بالوں کو منڈوا کر ٹاٹ کا لباس پہن لو۔
تاکہ مشرق سے مغرب تک انسان جان لیں کہ میرے سوا کوئی اَور نہیں ہے۔ مَیں ہی رب ہوں، اور میرے سوا کوئی اَور نہیں ہے۔
¶ تُو نے اپنی بدکاری پر اعتماد کر کے سوچا، ’کوئی نہیں مجھے دیکھتا۔‘ لیکن تیری ’حکمت‘ اور ’علم‘ تجھے غلط راہ پر لایا ہے۔ اُن کی بنا پر تُو نے دل میں کہا، ’مَیں ہی ہوں، میرے سوا کوئی اَور نہیں ہے۔‘
¶ قادرِ مطلق رب الافواج فرماتا ہے، ”اے گستاخ شہر، مَیں تجھ سے نپٹنے والا ہوں۔ کیونکہ وہ دن آ گیا ہے جب تجھے سزا ملنی ہے۔
تیری بہن سدوم کا کیا قصور تھا؟ وہ اپنی بیٹیوں سمیت متکبر تھی۔ گو اُنہیں خوراک کی کثرت اور آرام و سکون حاصل تھا توبھی وہ مصیبت زدوں اور غریبوں کا سہارا نہیں بنتی تھیں۔
اے بادشاہ، اب مہربانی سے میرا مشورہ قبول فرمائیں۔ انصاف کر کے اور مظلوموں پر کرم فرما کر اپنے گناہوں کو دُور کریں۔ شاید ایسا کرنے سے آپ کی خوش حالی قائم رہے۔“
¶ ایک دن بیل شَضَر بادشاہ اپنے بڑوں کے ہزار افراد کے لئے زبردست ضیافت کر کے اُن کے ساتھ مَے پینے لگا۔
¶ اُسی رات شاہِ بابل بیل شَضَر کو قتل کیا گیا،
¶ کیونکہ گو دشمن گھنی اور خاردار جھاڑیوں اور نشے میں دُھت شرابی کی مانند ہیں، لیکن وہ جلد ہی خشک بھوسے کی طرح بھسم ہو جائیں گے۔
لوگ اُس سے سخت دہشت کھائیں گے، ہر طرف اُسی کے قوانین اور عظمت ماننی پڑے گی۔
یہی اُس خوش باش شہر کا انجام ہو گا جو پہلے اِتنی حفاظت سے بستا تھا اور جو دل میں کہتا تھا، ”مَیں ہی ہوں، میرے سوا کوئی اَور ہے ہی نہیں۔“ آئندہ وہ ریگستان ہو گا، ایسی جگہ جہاں جانور ہی آرام کریں گے۔ ہر مسافر ”توبہ توبہ“ کہہ کر وہاں سے گزرے گا۔
لوگ اُس دن تک کھانے پینے اور شادی کرنے کروانے میں لگے رہے جب تک نوح کشتی میں داخل نہ ہو گیا۔ پھر سیلاب نے آ کر اُن سب کو تباہ کر دیا۔
کیونکہ تمام قوموں نے اُس کی حرامکاری اور مستی کی مَے پی لی ہے۔ زمین کے بادشاہوں نے اُس کے ساتھ زنا کیا اور زمین کے سوداگر اُس کی بےلگام عیاشی سے امیر ہو گئے ہیں۔“