ہمارے باپ دادا کے زمانے سے لے کر آج تک ہمارا قصور سنجیدہ رہا ہے۔ اِسی وجہ سے ہم بار بار پردیسی حکمرانوں کے قبضے میں آئے ہیں جنہوں نے ہمیں اور ہمارے بادشاہوں اور اماموں کو قتل کیا، گرفتار کیا، لُوٹ لیا اور ہماری بےحرمتی کی۔ بلکہ آج تک ہماری حالت یہی رہی ہے۔
TSK
TSK · یسعیاہ 64:4
مراجع Treasury of Scripture Knowledge في کتابِ مقدّس.
¶ داؤد کا زبور۔ موسیقی کے راہنما کے لئے۔ یدوتون کے لئے۔ میری جان خاموشی سے اللہ ہی کے انتظار میں ہے۔ اُسی سے مجھے مدد ملتی ہے۔
¶ مَیں رب کے انتظار میں ہوں، میری جان شدت سے انتظار کرتی ہے۔ مَیں اُس کے کلام سے اُمید رکھتا ہوں۔
¶ لیکن رب تمہیں مہربانی دکھانے کے انتظار میں ہے، وہ تم پر رحم کرنے کے لئے اُٹھ کھڑا ہوا ہے۔ کیونکہ رب انصاف کا خدا ہے۔ مبارک ہیں وہ جو اُس کے انتظار میں رہتے ہیں۔
¶ کیونکہ رب اُن پر مہربان ہے جو اُس پر اُمید رکھ کر اُس کے طالب رہتے ہیں۔
اے رب، ہم اپنے بادشاہوں، بزرگوں اور باپ دادا سمیت بہت شرم سار ہیں، کیونکہ ہم نے تیرا ہی گناہ کیا ہے۔
سب تنور کی طرح تپتے تپتے اپنے راہنماؤں کو ہڑپ کر لیتے ہیں۔ اُن کے تمام بادشاہ گر جاتے ہیں، اور ایک بھی مجھے نہیں پکارتا۔
پھر بادشاہ دہنے ہاتھ والوں سے کہے گا، ’آؤ، میرے باپ کے مبارک لوگو! جو بادشاہی دنیا کی تخلیق سے تمہارے لئے تیار ہے اُسے میراث میں لے لو۔
اور اگر مَیں جا کر تمہارے لئے جگہ تیار کروں تو واپس آ کر تم کو اپنے ساتھ لے جاؤں گا تاکہ جہاں مَیں ہوں وہاں تم بھی ہو۔
نہ صرف کائنات بلکہ ہم خود بھی اندر ہی اندر کراہتے ہیں، گو ہمیں آنے والے جلال کا پہلا پھل روح القدس کی صورت میں مل چکا ہے۔ ہم کراہتے کراہتے شدت سے اِس انتظار میں ہیں کہ یہ بات ظاہر ہو جائے کہ ہم اللہ کے فرزند ہیں اور ہمارے بدنوں کو نجات ملے۔
دانائی کے بارے میں پاک نوشتے بھی یہی کہتے ہیں، ”جو نہ کسی آنکھ نے دیکھا، نہ کسی کان نے سنا، اور نہ انسان کے ذہن میں آیا، اُسے اللہ نے اُن کے لئے تیار کر دیا جو اُس سے محبت رکھتے ہیں۔“
کہ مسیح ایمان کے ذریعے آپ کے دلوں میں سکونت کرے۔ ہاں، میری دعا ہے کہ آپ محبت میں جڑ پکڑیں اور اِس بنیاد پر زندگی یوں گزاریں
لوگ یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ اب آپ اِس انتظار میں ہیں کہ اللہ کا فرزند آسمان پر سے آئے یعنی عیسیٰ جسے اللہ نے مُردوں میں سے زندہ کر دیا اور جو ہمیں آنے والے غضب سے بچائے گا۔
اِس کے بجائے وہ ایک بہتر ملک یعنی ایک آسمانی ملک کی آرزو کر رہے تھے۔ اِس لئے اللہ اُن کا خدا کہلانے سے نہیں شرماتا، کیونکہ اُس نے اُن کے لئے ایک شہر تیار کیا ہے۔
¶ دھیان دیں کہ باپ نے ہم سے کتنی محبت کی ہے، یہاں تک کہ ہم اللہ کے فرزند کہلاتے ہیں۔ اور ہم واقعی ہیں بھی۔ اِس لئے دنیا ہمیں نہیں جانتی۔ وہ تو اُسے بھی نہیں جانتی۔
¶ پھر مَیں نے ایک نیا آسمان اور ایک نئی زمین دیکھی۔ کیونکہ پہلا آسمان اور پہلی زمین ختم ہو گئے تھے اور سمندر بھی نیست تھا۔
¶ پھر فرشتے نے مجھے زندگی کے پانی کا دریا دکھایا۔ وہ بلور جیسا صاف شفاف تھا اور اللہ اور لیلے کے تخت سے نکل کر