TSK

TSK · یعقوب 5:1

مراجع Treasury of Scripture Knowledge في کتابِ مقدّس.

العودة إلى المقطع

کیونکہ جب تُو کثرت کا کھانا کھا کر سیر ہو جائے گا، تُو شاندار گھر بنا کر اُن میں رہے گا

قلعہ بند شہر اور زرخیز زمینیں تیری قوم کے قابو میں آ گئیں، نیز ہر قسم کی اچھی چیزوں سے بھرے گھر، تیار شدہ حوض، انگور کے باغ اور کثرت کے زیتون اور دیگر پھل دار درخت۔ وہ جی بھر کر کھانا کھا کر موٹے ہو گئے اور تیری برکتوں سے لطف اندوز ہوتے رہے۔

¶ اے رب، اپنے ہاتھ سے مجھے اِن سے چھٹکارا دے۔ اُنہیں تو اِس دنیا میں اپنا حصہ مل چکا ہے۔ کیونکہ تُو نے اُن کے پیٹ کو اپنے مال سے بھر دیا، بلکہ اُن کے بیٹے بھی سیر ہو گئے ہیں اور اِتنا باقی ہے کہ وہ اپنی اولاد کے لئے بھی کافی کچھ چھوڑ جائیں گے۔

¶ کیونکہ شیخی بازوں کو دیکھ کر مَیں بےچین ہو گیا، اِس لئے کہ بےدین اِتنے خوش حال ہیں۔

¶ غضب کے دن دولت کا کوئی فائدہ نہیں جبکہ راست بازی لوگوں کی جان کو چھڑاتی ہے۔

¶ مجھے سورج تلے ایک نہایت بُری بات نظر آئی۔ جو دولت کسی نے اپنے لئے محفوظ رکھی وہ اُس کے لئے نقصان کا باعث بن گئی۔

¶ اُس وقت قادرِ مطلق رب الافواج نے حکم دیا کہ گریہ و زاری کرو، اپنے بالوں کو منڈوا کر ٹاٹ کا لباس پہن لو۔

¶ رب فرماتا ہے، ”نہ دانش مند اپنی حکمت پر فخر کرے، نہ زورآور اپنے زور پر یا امیر اپنی دولت پر۔

اے نشے میں دُھت لوگو، جاگ اُٹھو اور رو پڑو! اے مَے پینے والو، واویلا کرو! کیونکہ نئی مَے تمہارے منہ سے چھین لی گئی ہے۔

¶ اے امامو، ٹاٹ کا لباس اوڑھ کر ماتم کرو! اے قربان گاہ کے خادمو، واویلا کرو! اے میرے خدا کے خادمو، آؤ، رات کو بھی ٹاٹ اوڑھ کر گزارو! کیونکہ تمہارے خدا کا گھر غلہ اور مَے کی نذروں سے محروم ہو گیا ہے۔

یروشلم کے امیر بڑے ظالم ہیں، لیکن باقی باشندے بھی جھوٹ بولتے ہیں، اُن کی ہر بات دھوکا ہی دھوکا ہے!

¶ اے جونیپر کے درختو، واویلا کرو! کیونکہ دیودار کے درخت گر گئے ہیں، یہ زبردست درخت تباہ ہو گئے ہیں۔ اے بسن کے بلوطو، آہ و زاری کرو! جو جنگل اِتنا گھنا تھا کہ کوئی اُس میں سے گزر نہ سکتا تھا اُسے کاٹا گیا ہے۔

¶ مگر تم پر افسوس جو اب دولت مند ہو، کیونکہ تمہارا سکون یہیں ختم ہو جائے گا۔

¶ ایک امیر آدمی کا ذکر ہے جو ارغوانی رنگ کے کپڑے اور نفیس کتان پہنتا اور ہر روز عیش و عشرت میں گزارتا تھا۔

جو امیر بننے کے خواہاں رہتے ہیں وہ کئی طرح کی آزمائشوں اور پھندوں میں پھنس جاتے ہیں۔ بہت سی ناسمجھ اور نقصان دہ خواہشات اُنہیں ہلاکت اور تباہی میں غرق ہو جانے دیتی ہیں۔

لیکن آپ نے ضرورت مندوں کی بےعزتی کی ہے۔ ذرا سوچ لیں، وہ کون ہیں جو آپ کو دباتے اور عدالت میں گھسیٹ کر لے جاتے ہیں؟ کیا یہ دولت مند ہی نہیں ہیں؟

¶ اور اب میری بات سنیں، آپ جو کہتے ہیں، ”آج یا کل ہم فلاں فلاں شہر میں جائیں گے۔ وہاں ہم ایک سال ٹھہر کر کاروبار کر کے پیسے کمائیں گے۔“