TSK

TSK · یرمیاہ 21:6

مراجع Treasury of Scripture Knowledge في کتابِ مقدّس.

العودة إلى المقطع

¶ مَیں نے سوال کیا، ”اے رب، کب تک؟“ اُس نے جواب دیا، ”اُس وقت تک کہ ملک کے شہر ویران و سنسان، اُس کے گھر غیرآباد اور اُس کے کھیت بنجر نہ ہوں۔

رب قادرِ مطلق فرماتا ہے، ”میرا قہر اور غضب اِس مقام پر، انسان و حیوان پر، کھلے میدان کے درختوں پر اور زمین کی پیداوار پر نازل ہو گا۔ سب کچھ نذرِ آتش ہو جائے گا، اور کوئی اُسے بجھا نہیں سکے گا۔“

گو یہ روزہ بھی رکھیں توبھی مَیں اِن کی التجاؤں پر دھیان نہیں دوں گا۔ گو یہ بھسم ہونے والی اور غلہ کی قربانیاں پیش بھی کریں توبھی مَیں اِن سے خوش نہیں ہوں گا بلکہ اِنہیں کال، تلوار اور بیماریوں سے نیست و نابود کر دوں گا۔“

کیونکہ رب فرماتا ہے، ’مَیں ہونے دوں گا کہ تُو اپنے لئے اور اپنے تمام دوستوں کے لئے دہشت کی علامت بنے گا۔ کیونکہ تُو اپنی آنکھوں سے اپنے دوستوں کی قتل و غارت دیکھے گا۔ مَیں یہوداہ کے تمام باشندوں کو بابل کے بادشاہ کے قبضے میں کر دوں گا جو بعض کو ملکِ بابل میں لے جائے گا اور بعض کو موت کے گھاٹ اُتار دے گا۔

¶ رب الافواج فرماتا ہے کہ فی الحال یہ مقام ویران اور انسان و حیوان سے خالی ہے۔ لیکن آئندہ یہاں اور باقی تمام شہروں میں دوبارہ ایسی چراگاہیں ہوں گی جہاں گلہ بان اپنے ریوڑوں کو چَرائیں گے۔

ساتھ ساتھ یہویقیم کے بارے میں اعلان کر کہ رب فرماتا ہے، ’تُو نے طومار کو جلا کر یرمیاہ سے شکایت کی کہ تُو نے اِس کتاب میں کیوں لکھا ہے کہ شاہِ بابل ضرور آ کر اِس ملک کو تباہ کرے گا، اور اِس میں نہ انسان، نہ حیوان رہے گا؟‘

تیرے باشندوں کی ایک تہائی مہلک بیماریوں اور کال سے شہر میں ہلاک ہو جائے گی۔ دوسری تہائی تلوار کی زد میں آ کر شہر کے ارد گرد مر جائے گی۔ تیسری تہائی کو مَیں ہَوا میں اُڑا کر منتشر کر دوں گا اور پھر تلوار کو میان سے کھینچ کر اُن کا پیچھا کروں گا۔

لیکن مَیں اُن میں سے چند ایک کو بچا کر تلوار، کال اور مہلک وبا کی زد میں نہیں آنے دوں گا۔ کیونکہ لازم ہے کہ جن اقوام میں بھی وہ جا بسیں وہاں وہ اپنی مکروہ حرکتیں بیان کریں۔ تب یہ اقوام بھی جان لیں گی کہ مَیں ہی رب ہوں‘۔“

¶ یا فرض کر کہ مَیں مذکورہ ملک کو جنگ سے تباہ کروں، مَیں تلوار کو حکم دوں کہ ملک میں سے گزر کر انسان و حیوان کو نیست و نابود کر دے۔

¶ اب یروشلم کے بارے میں رب قادرِ مطلق کا فرمان سنو! یروشلم کا کتنا بُرا حال ہو گا جب مَیں اپنی چار سخت سزائیں اُس پر نازل کروں گا۔ کیونکہ انسان و حیوان جنگ، کال، وحشی درندوں اور مہلک وبا کی زد میں آ کر ہلاک ہو جائیں گے۔

پھر جب مَیں ملک کو اُن کی مکروہ حرکتوں کے باعث ویران و سنسان کر دوں گا تب وہ جان لیں گے کہ مَیں ہی رب ہوں۔‘

¶ تمہاری وجہ سے صیون پر ہل چلایا جائے گا اور یروشلم ملبے کا ڈھیر بن جائے گا۔ جس پہاڑ پر رب کا گھر ہے اُس پر جنگل چھا جائے گا۔

لوگ اُنہیں تلوار سے قتل کریں گے اور قید کر کے تمام غیریہودی ممالک میں لے جائیں گے۔ غیریہودی یروشلم کو پاؤں تلے کچل ڈالیں گے۔ یہ سلسلہ اُس وقت تک جاری رہے گا جب تک غیریہودیوں کا دور پورا نہ ہو جائے۔