¶ مصیبت کے دن مجھے پکار۔ تب مَیں تجھے نجات دوں گا اور تُو میری تمجید کرے گا۔“
TSK
TSK · یوایل 2:32
مراجع Treasury of Scripture Knowledge في کتابِ مقدّس.
اے اسرائیل، گو تُو ساحل پر کی ریت جیسا بےشمار کیوں نہ ہو توبھی صرف ایک بچا ہوا حصہ واپس آئے گا۔ تیرے برباد ہونے کا فیصلہ ہو چکا ہے، اور انصاف کا سیلاب ملک پر آنے والا ہے۔
ایک ایسا راستہ بنے گا جو رب کے بچے ہوئے افراد کو اسور سے اسرائیل تک پہنچائے گا، بالکل اُس راستے کی طرح جس نے اسرائیلیوں کو مصر سے نکلتے وقت اسرائیل تک پہنچایا تھا۔
¶ رب فرماتا ہے، ”چھڑانے والا کوہِ صیون پر آئے گا۔ وہ یعقوب کے اُن فرزندوں کے پاس آئے گا جو اپنے گناہوں کو چھوڑ کر واپس آئیں گے۔“
مجھے پکار تو مَیں تجھے جواب میں ایسی عظیم اور ناقابلِ فہم باتیں بیان کروں گا جو تُو نہیں جانتا۔
نجات دینے والے کوہِ صیون پر آ کر ادوم کے پہاڑی علاقے پر حکومت کریں گے۔ تب رب ہی بادشاہ ہو گا!“
لیکن جب تک حاملہ عورت اُسے جنم نہ دے، اُس وقت تک رب اپنی قوم کو دشمن کے حوالے چھوڑے گا۔ لیکن پھر اُس کے بھائیوں کا بچا ہوا حصہ اسرائیلیوں کے پاس واپس آئے گا۔
اِس بچے ہوئے حصے کو مَیں آگ میں ڈال کر چاندی یا سونے کی طرح پاک صاف کروں گا۔ تب وہ میرا نام پکاریں گے، اور مَیں اُن کی سنوں گا۔ مَیں کہوں گا، ’یہ میری قوم ہے،‘ اور وہ کہیں گے، ’رب ہمارا خدا ہے‘۔“
میری اَور بھی بھیڑیں ہیں جو اِس باڑے میں نہیں ہیں۔ لازم ہے کہ اُنہیں بھی لے آؤں۔ وہ بھی میری آواز سنیں گی۔ پھر ایک ہی گلہ اور ایک ہی گلہ بان ہو گا۔
کیونکہ یہ دینے کا وعدہ آپ سے اور آپ کے بچوں سے کیا گیا ہے، بلکہ اُن سے بھی جو دُور کے ہیں، اُن سب سے جنہیں رب ہمارا خدا اپنے پاس بُلائے گا۔“
¶ اور ہم جانتے ہیں کہ جو اللہ سے محبت رکھتے ہیں اُن کے لئے سب کچھ مل کر بھلائی کا باعث بنتا ہے، اُن کے لئے جو اُس کے ارادے کے مطابق بُلائے گئے ہیں۔
¶ اور یسعیاہ نبی اسرائیل کے بارے میں پکارتا ہے، ”گو اسرائیلی ساحل پر کی ریت جیسے بےشمار کیوں نہ ہوں توبھی صرف ایک بچے ہوئے حصے کو نجات ملے گی۔
آج بھی یہی حالت ہے۔ اسرائیل کا ایک چھوٹا حصہ بچ گیا ہے جسے اللہ نے اپنے فضل سے چن لیا ہے۔
پھر پورا اسرائیل نجات پائے گا۔ یہ کلامِ مُقدّس میں بھی لکھا ہے، ”چھڑانے والا صیون سے آئے گا۔ وہ بےدینی کو یعقوب سے ہٹا دے گا۔
¶ میرے بھائیو، واجب ہے کہ ہم ہر وقت آپ کے لئے خدا کا شکر کریں جنہیں خداوند پیار کرتا ہے۔ کیونکہ اللہ نے آپ کو شروع ہی سے نجات پانے کے لئے چن لیا، ایسی نجات کے لئے جو روح القدس سے پاکیزگی پا کر سچائی پر ایمان لانے سے حاصل ہوتی ہے۔