TSK

TSK · احبار 20:2

مراجع Treasury of Scripture Knowledge في کتابِ مقدّس.

العودة إلى المقطع

¶ لازم ہے کہ ہر اسرائیلی اور تمہارے درمیان رہنے والا پردیسی اپنی بھسم ہونے والی قربانی یا کوئی اَور قربانی

¶ اگر کوئی بھی اسرائیلی یا پردیسی ایسے جانور کا گوشت کھائے جو فطری طور پر مر گیا یا جسے جنگلی جانوروں نے پھاڑ ڈالا ہو تو وہ اپنے کپڑے دھو کر نہا لے۔ وہ شام تک ناپاک رہے گا۔

¶ تم میں سے جو مُردوں سے رابطہ یا غیب دانی کرتا ہے اُسے سزائے موت دینی ہے، خواہ عورت ہو یا مرد۔ اُنہیں سنگسار کرنا۔ وہ اپنی موت کے خود ذمہ دار ہیں۔“

جو بھی رب کے نام پر کفر بکے اُسے سزائے موت دی جائے۔ پوری جماعت اُسے سنگسار کرے۔ جس نے رب کے نام پر کفر بکا ہو اُسے ضرور سزائے موت دینی ہے، خواہ دیسی ہو یا پردیسی۔

¶ پھر رب نے موسیٰ سے کہا، ”اِس آدمی کو ضرور سزائے موت دی جائے۔ پوری جماعت اُسے خیمہ گاہ کے باہر لے جا کر سنگسار کرے۔“

اُسے ضرور پتھروں سے سزائے موت دینا، کیونکہ اُس نے تجھے رب تیرے خدا سے دُور کرنے کی کوشش کی، اُسی سے جو تجھے مصر کی غلامی سے نکال لایا۔

¶ جب تُو اُن شہروں میں آباد ہو جائے گا جو رب تیرا خدا تجھے دے گا تو ہو سکتا ہے کہ تیرے درمیان کوئی مرد یا عورت رب تیرے خدا کا عہد توڑ کر وہ کچھ کرے جو اُسے بُرا لگے۔

تیرے درمیان کوئی بھی اپنے بیٹے یا بیٹی کو قربانی کے طور پر نہ جلائے۔ نہ کوئی غیب دانی کرے، نہ فال یا شگون نکالے یا جادوگری کرے۔

تو اُسے باپ کے گھر لایا جائے۔ وہاں شہر کے آدمی اُسے سنگسار کر دیں۔ کیونکہ اپنے باپ کے گھر میں رہتے ہوئے بدکاری کرنے سے اُس نے اسرائیل میں ایک احمقانہ اور بےدین حرکت کی ہے۔ یوں تُو اپنے درمیان سے بُرائی مٹا دے گا۔

اپنے بیٹے بیٹیوں کو اُنہوں نے اپنے بُتوں کے لئے قربان کر کے جلا دیا۔ نجومیوں سے مشورہ لینا اور جادوگری کرنا عام ہو گیا۔ غرض اُنہوں نے اپنے آپ کو بدی کے ہاتھ میں بیچ کر ایسا کام کیا جو رب کو ناپسند تھا اور جو اُسے غصہ دلاتا رہا۔

اُس نے نہ صرف وادیٔ بن ہنوم میں بُتوں کو قربانیاں پیش کیں بلکہ اپنے بیٹوں کو بھی قربانی کے طور پر جلا دیا۔ یوں وہ اُن قوموں کے گھنونے رسم و رواج ادا کرنے لگا جنہیں رب نے اسرائیلیوں کے آگے ملک سے نکال دیا تھا۔

¶ ہاں، اُنہوں نے اپنے بیٹے بیٹیوں کو کنعان کے دیوتاؤں کے حضور پیش کر کے اُن کا معصوم خون بہایا۔ اِس سے ملک کی بےحرمتی ہوئی۔

ساتھ ساتھ اُنہوں نے وادیٔ بن ہنوم میں واقع توفت کی اونچی جگہیں تعمیر کیں تاکہ اپنے بیٹے بیٹیوں کو جلا کر قربان کریں۔ مَیں نے کبھی بھی ایسی رسم ادا کرنے کا حکم نہیں دیا بلکہ اِس کا خیال میرے ذہن میں آیا تک نہیں۔

¶ جن بیٹے بیٹیوں کو تُو نے میرے ہاں جنم دیا تھا اُنہیں تُو نے قربان کر کے بُتوں کو کھلایا۔ کیا تُو اپنی زناکاری پر اکتفا نہ کر سکی؟

کیونکہ اپنے نذرانے پیش کرنے اور اپنے بچوں کو قربان کرنے سے تم اپنے آپ کو اپنے بُتوں سے آلودہ کرتے ہو۔ اے اسرائیلی قوم، آج تک یہی تمہارا رویہ ہے! تو پھر مَیں کیا کروں؟ کیا مجھے تمہیں جواب دینا چاہئے جب تم مجھ سے کچھ دریافت کرنے کے لئے آتے ہو؟ ہرگز نہیں! میری حیات کی قَسم، مَیں تمہیں جواب میں کچھ نہیں بتاؤں گا۔ یہ رب قادرِ مطلق کا فرمان ہے۔

کیونکہ جب کبھی وہ اپنے بچوں کو اپنے بُتوں کے حضور قربان کرتی تھیں اُسی دن وہ میرے گھر میں آ کر اُس کی بےحرمتی کرتی تھیں۔ میرے ہی گھر میں وہ ایسی حرکتیں کرتی تھیں۔

پھر وہ اُسے شہر سے نکال کر سنگسار کرنے لگے۔ اور جن لوگوں نے اُس کے خلاف گواہی دی تھی اُنہوں نے اپنی چادریں اُتار کر ایک جوان آدمی کے پاؤں میں رکھ دیں۔ اُس آدمی کا نام ساؤل تھا۔