¶ لازم ہے کہ ساتویں مہینے کے دسویں دن اسرائیلی اور اُن کے درمیان رہنے والے پردیسی اپنی جان کو دُکھ دیں اور کام نہ کریں۔ یہ اصول تمہارے لئے ابد تک قائم رہے۔
TSK
TSK · احبار 25:9
مراجع Treasury of Scripture Knowledge في کتابِ مقدّس.
”اسرائیلیوں کو بتانا کہ ساتویں مہینے کا پہلا دن آرام کا دن ہے۔ اُس دن مُقدّس اجتماع ہو جس پر یاد دلانے کے لئے نرسنگا پھونکا جائے۔
پچاسواں سال مخصوص و مُقدّس کرو اور پورے ملک میں اعلان کرو کہ تمام باشندوں کو آزاد کر دیا جائے۔ یہ بحالی کا سال ہو جس میں ہر شخص کو اُس کی ملکیت واپس کی جائے اور ہر غلام کو آزاد کیا جائے تاکہ وہ اپنے رشتے داروں کے پاس واپس جا سکے۔
بحالی کے سال میں یہ کھیت اُس شخص کے پاس واپس آئے گا جس نے اُسے بیچا تھا۔
اور اگر ہم یہ زمین واپس بھی خریدیں توبھی وہ اگلے بحالی کے سال میں دوسرے قبیلے کو واپس چلی جائے گی جس میں اِن عورتوں نے شادی کی ہے۔ اِس طرح وہ ہمیشہ کے لئے ہمارے ہاتھ سے نکل جائے گی۔“
¶ روزانہ وہ تیرے نام کی خوشی منائیں گے اور تیری راستی سے سرفراز ہوں گے۔
¶ تو پھر سوال یہ ہے کہ کیا اسرائیلیوں نے یہ پیغام نہیں سنا؟ اُنہوں نے اِسے ضرور سنا۔ کلامِ مُقدّس میں لکھا ہے، ”اُن کی آواز نکل کر پوری دنیا میں سنائی دی، اُن کے الفاظ دنیا کی انتہا تک پہنچ گئے۔“
اِس خدمت کے تحت ہم یہ پیغام سناتے ہیں کہ اللہ نے مسیح کے وسیلے سے اپنے ساتھ دنیا کی صلح کرائی اور لوگوں کے گناہوں کو اُن کے ذمے نہ لگایا۔ صلح کرانے کا یہ پیغام اُس نے ہمارے سپرد کر دیا۔