¶ لیکن ابرام نے اعتراض کیا، ”اے رب قادرِ مطلق، تُو مجھے کیا دے گا جبکہ ابھی تک میرے ہاں کوئی بچہ نہیں ہے اور اِلی عزر دمشقی میری میراث پائے گا۔
TSK
TSK · لوقا 1:7
مراجع Treasury of Scripture Knowledge في کتابِ مقدّس.
¶ ابراہیم منہ کے بل گر گیا۔ لیکن دل ہی دل میں وہ ہنس پڑا اور سوچا، ”یہ کس طرح ہو سکتا ہے؟ مَیں تو 100 سال کا ہوں۔ ایسے آدمی کے ہاں بچہ کس طرح پیدا ہو سکتا ہے؟ اور سارہ جیسی عمر رسیدہ عورت کے بچہ کس طرح پیدا ہو سکتا ہے؟ اُس کی عمر تو 90 سال ہے۔“
رِبقہ کے بچے پیدا نہ ہوئے۔ لیکن اسحاق نے اپنی بیوی کے لئے دعا کی تو رب نے اُس کی سنی، اور رِبقہ اُمید سے ہوئی۔
اُس وقت ایک آدمی صُرعہ شہر میں رہتا تھا جس کا نام منوحہ تھا۔ دان کے قبیلے کا یہ آدمی بےاولاد تھا، کیونکہ اُس کی بیوی بانجھ تھی۔
حنّہ کو بھی گوشت ملتا، لیکن جہاں دوسروں کو ایک حصہ ملتا وہاں اُسے دو حصے ملتے تھے۔ کیونکہ اِلقانہ اُس سے بہت محبت رکھتا تھا، اگرچہ اب تک رب کی مرضی نہیں تھی کہ حنّہ کے بچے پیدا ہوں۔
¶ بعد میں الیشع نے جیحازی سے بات کی، ”ہم اُس کے لئے کیا کریں؟“ جیحازی نے جواب دیا، ”ایک بات تو ہے۔ اُس کا کوئی بیٹا نہیں، اور اُس کا شوہر کافی بوڑھا ہے۔“
¶ یہ ایمان کا کام تھا کہ ابراہیم باپ بننے کے قابل ہو گیا، حالانکہ وہ بُڑھاپے کی وجہ سے باپ نہیں بن سکتا تھا۔ اِسی طرح سارہ بھی بچے جنم نہیں دے سکتی تھی۔ لیکن ابراہیم سمجھتا تھا کہ اللہ جس نے وعدہ کیا ہے وفادار ہے۔