¶ رب نے جواب دیا، ”اب تُو دیکھے گا کہ مَیں فرعون کے ساتھ کیا کچھ کرتا ہوں۔ میری عظیم قدرت کا تجربہ کر کے وہ میرے لوگوں کو جانے دے گا بلکہ اُنہیں جانے پر مجبور کرے گا۔“
TSK
TSK · گِنتی 11:23
مراجع Treasury of Scripture Knowledge في کتابِ مقدّس.
¶ جیحازی حیران ہو کر بولا، ”یہ کیسے ممکن ہے؟ یہ تو 100 آدمیوں کے لئے کافی نہیں ہے۔“ لیکن الیشع نے اصرار کیا، ”اِسے لوگوں میں تقسیم کر دو، کیونکہ رب فرماتا ہے کہ وہ جی بھر کر کھائیں گے بلکہ کچھ بچ بھی جائے گا۔“
¶ جس افسر کے بازو کا سہارا بادشاہ لیتا تھا اُسے اُس نے دروازے کی نگرانی کرنے کے لئے بھیج دیا تھا۔ لیکن جب لوگ باہر نکلے تو افسر اُن کی زد میں آ کر اُن کے پیروں تلے کچلا گیا۔ یوں ویسا ہی ہوا جیسا مردِ خدا نے اُس وقت کہا تھا جب بادشاہ اُس کے گھر آیا تھا۔
¶ جب مَیں آیا تو کوئی نہیں تھا۔ کیا وجہ؟ جب مَیں نے آواز دی تو جواب دینے والا کوئی نہیں تھا۔ کیوں؟ کیا مَیں فدیہ دے کر تمہیں چھڑانے کے قابل نہ تھا؟ کیا میری اِتنی طاقت نہیں کہ تمہیں بچا سکوں؟ میری تو ایک ہی دھمکی سے سمندر خشک ہو جاتا اور دریا ریگستان بن جاتے ہیں۔ تب اُن کی مچھلیاں پانی سے محروم ہو کر گل جاتی ہیں، اور اُن کی بدبو چاروں طرف پھیل جاتی ہے۔
¶ ’اے رب قادرِ مطلق، تُو نے اپنا ہاتھ بڑھا کر بڑی قدرت سے آسمان و زمین کو بنایا، تیرے لئے کوئی بھی کام ناممکن نہیں۔
صرف چند ایک دشمن کی تلوار سے بچ کر ملکِ یہوداہ واپس آئیں گے۔ تب یہوداہ کے جتنے بچے ہوئے لوگ مصر میں پناہ لینے کے لئے آئے ہیں وہ سب جان لیں گے کہ کس کی بات درست نکلی ہے، میری یا اُن کی۔
میرے رب کا یہ فرمان پورا ہونے والا ہے، اور مَیں دھیان سے اُسے عمل میں لاؤں گا۔ نہ مَیں تجھ پر ترس کھاؤں گا، نہ رحم کروں گا۔ مَیں تیرے چال چلن اور اعمال کے مطابق تیری عدالت کروں گا۔‘ یہ رب قادرِ مطلق کا فرمان ہے۔“
¶ عیسیٰ نے غور سے اُن کی طرف دیکھ کر جواب دیا، ”یہ انسان کے لئے تو ناممکن ہے، لیکن اللہ کے لئے سب کچھ ممکن ہے۔“
کیونکہ اللہ کے نزدیک کوئی کام ناممکن نہیں ہے۔“