¶ انسان دم بھر کا ہی ہے، اُس کے دن تیزی سے گزرنے والے سائے کی مانند ہیں۔
TSK
TSK · مکاشفہ 21:4
مراجع Treasury of Scripture Knowledge في کتابِ مقدّس.
¶ اے صیون کے باشندو جو یروشلم میں رہتے ہو، آئندہ تم نہیں روؤ گے۔ جب تم فریاد کرو گے تو وہ ضرور تم پر مہربانی کرے گا۔ تمہاری سنتے ہی وہ جواب دے گا۔
¶ جنہیں رب نے فدیہ دے کر چھڑایا ہے وہ واپس آئیں گے۔ وہ شادیانہ بجا کر صیون میں داخل ہوں گے، اور ہر ایک کا سر ابدی خوشی کے تاج سے آراستہ ہو گا۔ کیونکہ خوشی اور شادمانی اُن پر غالب آ کر تمام غم اور آہ و زاری بھگا دے گی۔
اور صیون کے سوگواروں کو دلاسا دے کر راکھ کے بجائے شاندار تاج، ماتم کے بجائے خوشی کا تیل اور شکستہ روح کے بجائے حمد و ثنا کا لباس مہیا کروں۔ تب وہ ’راستی کے درخت‘ کہلائیں گے، ایسے پودے جو رب نے اپنا جلال ظاہر کرنے کے لئے لگائے ہیں۔
پھر کنواریاں خوشی کے مارے لوک ناچ ناچیں گی، جوان اور بزرگ آدمی بھی اُس میں حصہ لیں گے۔ یوں مَیں اُن کا ماتم خوشی میں بدل دوں گا، مَیں اُن کے دلوں سے غم نکال کر اُنہیں اپنی تسلی اور شادمانی سے بھر دوں گا۔“
آسمان و زمین تو جاتے رہیں گے، لیکن میری باتیں ہمیشہ تک قائم رہیں گی۔
آخری دشمن جسے نیست کیا جائے گا موت ہو گی۔
¶ چنانچہ رب فرماتا ہے، ”اِس لئے اُن میں سے نکل آؤ اور اُن سے الگ ہو جاؤ۔ کسی ناپاک چیز کو نہ چھونا، تو پھر مَیں تمہیں قبول کروں گا۔
¶ لیکن خداوند کا دن چور کی طرح آئے گا۔ آسمان بڑے شور کے ساتھ ختم ہو جائیں گے، اجرامِ فلکی آگ میں پگھل جائیں گے اور زمین اُس کے کاموں سمیت ظاہر ہو کر عدالت میں پیش کی جائے گی۔
کیونکہ جو لیلا تخت کے درمیان بیٹھا ہے وہ اُن کی گلہ بانی کرے گا اور اُنہیں زندگی کے چشموں کے پاس لے جائے گا۔ اور اللہ اُن کی آنکھوں سے تمام آنسو پونچھ ڈالے گا۔“
¶ پھر مَیں نے ایک نیا آسمان اور ایک نئی زمین دیکھی۔ کیونکہ پہلا آسمان اور پہلی زمین ختم ہو گئے تھے اور سمندر بھی نیست تھا۔