¶ ”مَیں تجھے کیسے معاف کروں؟ تیری اولاد نے مجھے ترک کر کے اُن کی قَسم کھائی ہے جو خدا نہیں ہیں۔ گو مَیں نے اُن کی ہر ضرورت پوری کی توبھی اُنہوں نے زنا کیا، چکلے کے سامنے اُن کی لمبی قطاریں لگی رہیں۔
TSK
TSK · رومیوں 2:22
مراجع Treasury of Scripture Knowledge في کتابِ مقدّس.
¶ کاش ریگستان میں کہیں مسافروں کے لئے سرائے ہو تاکہ مَیں اپنی قوم کو چھوڑ کر وہاں چلا جاؤں۔ کیونکہ سب زناکار، سب غداروں کا جتھا ہیں۔
کیونکہ گو اندھے جانوروں کو قربان کرنا سخت منع ہے، توبھی تم یہ بات نظرانداز کر کے ایسے جانوروں کو قربان کرتے ہو۔ لنگڑے یا بیمار جانور چڑھانا بھی ممنوع ہے، توبھی تم کہتے ہو، ’کوئی بات نہیں‘ اور ایسے ہی جانوروں کو پیش کرتے ہو۔“ رب الافواج فرماتا ہے، ”اگر واقعی اِس کی کوئی بات نہیں تو اپنے ملک کے گورنر کو ایسے جانوروں کو پیش کرو۔ کیا وہ تم سے خوش ہو گا؟ کیا وہ تمہیں قبول کرے گا؟ ہرگز نہیں!
¶ کیا مناسب ہے کہ انسان اللہ کو ٹھگے؟ ہرگز نہیں! لیکن تم لوگ یہی کچھ کر رہے ہو۔ تم پوچھتے ہو، ’ہم کس طرح تجھے ٹھگتے ہیں؟‘ اِس میں کہ تم مجھے اپنی پیداوار کا دسواں حصہ نہیں دیتے۔ نیز، تم اماموں کو قربانیوں کا وہ حصہ نہیں دیتے جو اُن کا حق بنتا ہے۔
صرف شریر اور زناکار نسل الٰہی نشان کا تقاضا کرتی ہے۔ لیکن اُسے کوئی بھی الٰہی نشان پیش نہیں کیا جائے گا سوائے یونس نبی کے نشان کے۔“ یہ کہہ کر عیسیٰ اُنہیں چھوڑ کر چلا گیا۔
آپ یہ آدمی یہاں لائے ہیں حالانکہ نہ تو وہ مندروں کو لُوٹنے والے ہیں، نہ اُنہوں نے دیوی کی بےحرمتی کی ہے۔