پھر اماموں نے اُنہیں ذبح کر کے اُن کا خون گناہ کی قربانی کے طور پر قربان گاہ پر چھڑکا تاکہ اسرائیل کا کفارہ دیا جائے۔ کیونکہ بادشاہ نے حکم دیا تھا کہ بھسم ہونے والی اور گناہ کی قربانی تمام اسرائیل کے لئے پیش کی جائے۔
TSK
TSK · رومیوں 5:10
مراجع Treasury of Scripture Knowledge في کتابِ مقدّس.
تیری قوم اور تیرے مُقدّس شہر کے لئے 70 ہفتے مقرر کئے گئے ہیں تاکہ اُتنے میں جرائم اور گناہوں کا سلسلہ ختم کیا جائے، قصور کا کفارہ دیا جائے، ابدی راستی قائم کی جائے، رویا اور پیش گوئی کی تصدیق کی جائے اور مُقدّس ترین جگہ کو مسح کر کے مخصوص و مُقدّس کیا جائے۔
کیونکہ میرے باپ کی مرضی یہی ہے کہ جو بھی فرزند کو دیکھ کر اُس پر ایمان لائے اُسے ابدی زندگی حاصل ہو۔ ایسے شخص کو مَیں قیامت کے دن مُردوں میں سے پھر زندہ کروں گا۔“
مَیں اُنہیں ابدی زندگی دیتا ہوں، اِس لئے وہ کبھی ہلاک نہیں ہوں گی۔ کوئی اُنہیں میرے ہاتھ سے چھین نہ لے گا،
تھوڑی دیر کے بعد دنیا مجھے نہیں دیکھے گی، لیکن تم مجھے دیکھتے رہو گے۔ چونکہ مَیں زندہ ہوں اِس لئے تم بھی زندہ رہو گے۔
پرانی فطرت کی سوچ اللہ سے دشمنی رکھتی ہے۔ یہ اپنے آپ کو اللہ کی شریعت کے تابع نہیں رکھتی، نہ ہی ایسا کر سکتی ہے۔
کون ہمیں مجرم ٹھہرائے گا جب مسیح عیسیٰ نے ہمارے لئے اپنی جان دی؟ بلکہ ہماری خاطر اِس سے بھی زیادہ ہوا۔ اُسے زندہ کیا گیا اور وہ اللہ کے دہنے ہاتھ بیٹھ گیا، جہاں وہ ہماری شفاعت کرتا ہے۔
ہر وقت ہم اپنے بدن میں عیسیٰ کی موت لئے پھرتے ہیں تاکہ عیسیٰ کی زندگی بھی ہمارے بدن میں ظاہر ہو جائے۔
مسیح بےگناہ تھا، لیکن اللہ نے اُسے ہماری خاطر گناہ ٹھہرایا تاکہ ہمیں اُس میں راست باز قرار دیا جائے۔
اور وہ مسیح کے ذریعے سب باتوں کی اپنے ساتھ صلح کرا لے، خواہ وہ زمین کی ہوں خواہ آسمان کی۔ کیونکہ اُس نے مسیح کے صلیب پر بہائے گئے خون کے وسیلے سے صلح سلامتی قائم کی۔
اِس لئے لازم تھا کہ وہ ہر لحاظ سے اپنے بھائیوں کی مانند بن جائے۔ صرف اِس سے اُس کا یہ مقصد پورا ہو سکا کہ وہ اللہ کے حضور ایک رحیم اور وفادار امامِ اعظم بن کر لوگوں کے گناہوں کا کفارہ دے سکے۔
مَیں وہ ہوں جو زندہ ہے۔ مَیں تو مر گیا تھا لیکن اب دیکھ، مَیں ابد تک زندہ ہوں۔ اور موت اور پاتال کی کنجیاں میرے ہاتھ میں ہیں۔