TSK

TSK · رومیوں 8:3

مراجع Treasury of Scripture Knowledge في کتابِ مقدّس.

العودة إلى المقطع

چنانچہ موسیٰ نے پیتل کا ایک سانپ بنایا اور کھمبا کھڑا کر کے سانپ کو اُس سے لٹکا دیا۔ اور ایسا ہوا کہ جسے بھی ڈسا گیا تھا وہ پیتل کے سانپ پر نظر کر کے بچ گیا۔

¶ کلام انسان بن کر ہمارے درمیان رہائش پذیر ہوا اور ہم نے اُس کے جلال کا مشاہدہ کیا۔ وہ فضل اور سچائی سے معمور تھا اور اُس کا جلال باپ کے اکلوتے فرزند کا سا تھا۔

¶ ایک بار پھر اُنہوں نے شفایاب اندھے کو بُلایا، ”اللہ کو جلال دے، ہم تو جانتے ہیں کہ یہ آدمی گناہ گار ہے۔“

کیونکہ شریعت کے تقاضے پورے کرنے سے کوئی بھی اُس کے سامنے راست باز نہیں ٹھہر سکتا، بلکہ شریعت کا کام یہ ہے کہ ہمارے اندر گناہ گار ہونے کا احساس پیدا کرے۔

کیونکہ جب ہم اپنی پرانی فطرت کے تحت زندگی گزارتے تھے تو شریعت ہماری گناہ آلودہ رغبتوں کو اُکساتی تھی۔ پھر یہی رغبتیں ہمارے اعضا پر اثرانداز ہوتی تھیں اور نتیجے میں ہم ایسا پھل لاتے تھے جس کا انجام موت ہے۔

کاش میرے بھائی اور خونی رشتے دار نجات پائیں! اِس کے لئے مَیں خود ملعون اور مسیح سے جدا ہونے کے لئے بھی تیار ہوں۔

¶ لیکن مسیح نے ہمارا فدیہ دے کر ہمیں شریعت کی لعنت سے آزاد کر دیا ہے۔ یہ اُس نے اِس طرح کیا کہ وہ ہماری خاطر خود لعنت بنا۔ کیونکہ کلامِ مُقدّس میں لکھا ہے، ”جسے بھی درخت سے لٹکایا گیا ہے اُس پر اللہ کی لعنت ہے۔“

لیکن جب مقررہ وقت آ گیا تو اللہ نے اپنے فرزند کو بھیج دیا۔ ایک عورت سے پیدا ہو کر وہ شریعت کے تابع ہوا

¶ اب چونکہ یہ بچے گوشت پوست اور خون کے انسان ہیں اِس لئے عیسیٰ خود اُن کی مانند بن گیا اور اُن کی انسانی فطرت میں شریک ہوا۔ کیونکہ اِس طرح ہی وہ اپنی موت سے موت کے مالک ابلیس کو تباہ کر سکا،

اور وہ ایسا امامِ اعظم نہیں ہے جو ہماری کمزوریوں کو دیکھ کر ہم دردی نہ دکھائے بلکہ اگرچہ وہ بےگناہ رہا توبھی ہماری طرح اُسے ہر قسم کی آزمائش کا سامنا کرنا پڑا۔

¶ موسوی شریعت آنے والی اچھی اور اصلی چیزوں کی صرف نقلی صورت اور سایہ ہے۔ یہ اُن چیزوں کی اصلی شکل نہیں ہے۔ اِس لئے یہ اُنہیں کبھی بھی کامل نہیں کر سکتی جو سال بہ سال اور بار بار اللہ کے حضور آ کر وہی قربانیاں پیش کرتے رہتے ہیں۔

یوں اُس نے ایک ہی قربانی سے اُنہیں سدا کے لئے کامل بنا دیا ہے جنہیں مُقدّس کیا جا رہا ہے۔

¶ اب چونکہ مسیح نے جسمانی طور پر دُکھ اُٹھایا اِس لئے آپ بھی اپنے آپ کو اُس کی سی سوچ سے لیس کریں۔ کیونکہ جس نے مسیح کی خاطر جسمانی طور پر دُکھ سہہ لیا ہے اُس نے گناہ سے نپٹ لیا ہے۔