نہ بُتوں کی پرستش، نہ اُن کی خدمت کرنا، کیونکہ مَیں تیرا رب غیور خدا ہوں۔ جو مجھ سے نفرت کرتے ہیں اُنہیں مَیں تیسری اور چوتھی پشت تک سزا دوں گا۔
TSK
TSK · ۲-توارِیخ 19:2
Treasury of Scripture Knowledge references in کتابِ مقدّس.
¶ جب مَیں اپنی چمکتی ہوئی تلوار کو تیز کر کے عدالت کے لئے پکڑ لوں گا تو اپنے مخالفوں سے انتقام اور اپنے نفرت کرنے والوں سے بدلہ لوں گا۔
¶ ساؤل نے کہا، ”ٹھیک ہے، چلیں۔“ وہ شہر کی طرف چل پڑے تاکہ مردِ خدا سے بات کریں۔ جب پہاڑی ڈھلان پر شہر کی طرف چڑھ رہے تھے تو کچھ لڑکیاں پانی بھرنے کے لئے نکلیں۔ آدمیوں نے اُن سے پوچھا، ”کیا غیب بین شہر میں ہے؟“ (پرانے زمانے میں نبی غیب بین کہلاتا تھا۔ اگر کوئی اللہ سے کچھ معلوم کرنا چاہتا تو کہتا، ”آؤ، ہم غیب بین کے پاس چلیں۔“)
رب کی سزا کا جو پیغام حنانی کے بیٹے یاہو نبی نے بعشا اور اُس کے خاندان کو سنایا اُس کی دو وجوہات تھیں۔ پہلے، بعشا نے یرُبعام کے خاندان کی طرح وہ کچھ کیا جو رب کو ناپسند تھا اور اُسے طیش دلایا۔ دوسرے، اُس نے یرُبعام کے پورے خاندان کو ہلاک کر دیا تھا۔
¶ اور یہ حقیقت ہے کہ اخی اب جیسا خراب شخص کوئی نہیں تھا۔ کیونکہ ایزبل کے اُکسانے پر اُس نے اپنے آپ کو بدی کے ہاتھ میں بیچ کر ایسا کام کیا جو رب کو ناپسند تھا۔
¶ غرض یہوسفط کو بڑی دولت اور عزت حاصل ہوئی۔ اُس نے اپنے پہلوٹھے کی شادی اسرائیل کے بادشاہ اخی اب کی بیٹی سے کرائی۔
اسرائیل کا بادشاہ بولا، ”ہاں، ایک تو ہے جس کے ذریعے ہم رب کی مرضی معلوم کر سکتے ہیں۔ لیکن مَیں اُس سے نفرت کرتا ہوں، کیونکہ وہ میرے بارے میں کبھی بھی اچھی پیش گوئی نہیں کرتا۔ وہ ہمیشہ بُری پیش گوئیاں سناتا ہے۔ اُس کا نام میکایاہ بن اِملہ ہے۔“ یہوسفط نے اعتراض کیا، ”بادشاہ ایسی بات نہ کہے!“
¶ باقی جو کچھ یہوسفط کی حکومت کے دوران ہوا وہ شروع سے لے کر آخر تک یاہو بن حنانی کی تاریخ میں بیان کیا گیا ہے۔ بعد میں سب کچھ ’شاہانِ اسرائیل کی تاریخ‘ کی کتاب میں درج کیا گیا۔
لیکن حِزقیاہ مغرور ہوا، اور اُس نے اِس مہربانی کا مناسب جواب نہ دیا۔ نتیجے میں رب اُس سے اور یہوداہ اور یروشلم سے ناراض ہوا۔
¶ تیرے دشمن تیرے قبضے میں آ جائیں گے، جو تجھ سے نفرت کرتے ہیں اُنہیں تیرا دہنا ہاتھ پکڑ لے گا۔
¶ میرا منہ تیری راستی سناتا رہے گا، سارا دن تیرے نجات بخش کاموں کا ذکر کرتا رہے گا، گو مَیں اُن کی پوری تعداد گن بھی نہیں سکتا۔
¶ اے رب، کیا مَیں اُن سے نفرت نہ کروں جو تجھ سے نفرت کرتے ہیں؟ کیا مَیں اُن سے گھن نہ کھاؤں جو تیرے خلاف اُٹھے ہیں؟
¶ اگر دنیا تم سے دشمنی رکھے تو یہ بات ذہن میں رکھو کہ اُس نے تم سے پہلے مجھ سے دشمنی رکھی ہے۔
¶ لیکن اللہ کا غضب آسمان پر سے اُن تمام بےدین اور ناراست لوگوں پر نازل ہوتا ہے جو سچائی کو اپنی ناراستی سے دبائے رکھتے ہیں۔
اگرچہ وہ اللہ کا فرمان جانتے ہیں کہ ایسا کرنے والے سزائے موت کے مستحق ہیں توبھی وہ ایسا کرتے ہیں۔ نہ صرف یہ بلکہ وہ ایسا کرنے والے دیگر لوگوں کو شاباش بھی دیتے ہیں۔
اگر ہم اپنے آپ کو جانچتے تو اللہ کی عدالت سے بچے رہتے۔
بےوفا لوگو! کیا آپ کو نہیں معلوم کہ دنیا کا دوست اللہ کا دشمن ہوتا ہے؟ جو دنیا کا دوست بننا چاہتا ہے وہ اللہ کا دشمن بن جاتا ہے۔