TSK

TSK · ۲-توارِیخ 32:21

Treasury of Scripture Knowledge references in کتابِ مقدّس.

واپس گزرنے پر

¶ پھر یسعیاہ بن آموص نے حِزقیاہ کو پیغام بھیجا، ”رب اسرائیل کا خدا فرماتا ہے کہ مَیں نے اسوری بادشاہ سنحیرب کے بارے میں تیری دعا سنی ہے۔

اللہ کا دل دانش مند اور اُس کی قدرت عظیم ہے۔ کون کبھی اُس سے بحث مباحثہ کر کے کامیاب رہا ہے؟

¶ بہادروں کو لُوٹ لیا گیا ہے، وہ موت کی نیند سو گئے ہیں۔ فوجیوں میں سے ایک بھی ہاتھ نہیں اُٹھا سکتا۔

¶ تُو ہی مہیب ہے۔ جب تُو جھڑکے تو کون تیرے حضور قائم رہے گا؟

¶ مَیں اُس کے دشمنوں کو شرمندگی سے ملبّس کروں گا جبکہ اُس کے سر کا تاج چمکتا رہے گا۔“

¶ تباہی سے پہلے غرور اور گرنے سے پہلے تکبر آتا ہے۔

¶ چنانچہ قادرِ مطلق رب الافواج اسور کے موٹے تازے فوجیوں میں ایک مرض پھیلا دے گا جو اُن کے جسموں کو رفتہ رفتہ ضائع کرے گا۔ اسور کی شان و شوکت کے نیچے ایک بھڑکتی ہوئی آگ لگائی جائے گی۔

مَیں اسور کو اپنے ملک میں چِکنا چُور کر دوں گا اور اُسے اپنے پہاڑوں پر کچل ڈالوں گا۔ تب اُس کا جوا میری قوم پر سے دُور ہو جائے گا، اور اُس کا بوجھ اُس کے کندھوں پر سے اُتر جائے گا۔“

¶ لیکن اچانک تیرے متعدد دشمن باریک دُھول کی طرح اُڑ جائیں گے، ظالموں کا غول ہَوا میں بھوسے کی طرح تتر بتر ہو جائے گا۔ کیونکہ اچانک، ایک ہی لمحے میں

¶ تب رب اپنی بارُعب آواز سے لوگوں پر اپنی قدرت کا اظہار کرے گا۔ اُس کا سخت غضب اور بھسم کرنے والی آگ نازل ہو گی، ساتھ ساتھ بارش کی تیز بوچھاڑ اور اولوں کا طوفان اُن پر ٹوٹ پڑے گا۔

تم میرے آقا اسور کے بادشاہ کے سب سے چھوٹے افسر کا بھی مقابلہ نہیں کر سکتے۔ لہٰذا مصر کے رتھوں پر بھروسا رکھنے کا کیا فائدہ؟

¶ اُسی رات رب کا فرشتہ نکل آیا اور اسوری لشکرگاہ میں سے گزر کر 1,85,000 فوجیوں کو مار ڈالا۔ جب لوگ صبح سویرے اُٹھے تو چاروں طرف لاشیں ہی لاشیں نظر آئیں۔

”بابل کا بادشاہ نبوکدنضر ہم پر حملہ کر رہا ہے۔ شاید جس طرح رب نے ماضی میں کئی بار کیا اِس دفعہ بھی ہماری مدد کر کے نبوکدنضر کو معجزانہ طور پر یروشلم کو چھوڑنے پر مجبور کرے۔ رب سے اِس کے بارے میں دریافت کریں۔“ تب رب کا کلام یرمیاہ پر نازل ہوا،

میرے خدا نے اپنے فرشتے کو بھیج دیا جس نے شیروں کے منہ کو بند کئے رکھا۔ اُنہوں نے مجھے کوئی بھی نقصان نہ پہنچایا، کیونکہ اللہ کے سامنے مَیں بےقصور ہوں۔ بادشاہ سلامت کے خلاف بھی مجھ سے جرم نہیں ہوا۔“

وہ ابھی یہ کہہ رہے تھے کہ رب کے فرشتے نے ہیرودیس کو مارا، کیونکہ اُس نے لوگوں کی پرستش قبول کر کے اللہ کو جلال نہیں دیا تھا۔ وہ بیمار ہوا اور کیڑوں نے اُس کے جسم کو کھا کھا کر ختم کر دیا۔ اِسی حالت میں وہ مر گیا۔

¶ پھر مَیں نے ایک فرشتہ سورج پر کھڑا دیکھا۔ اُس نے اونچی آواز سے پکار کر اُن تمام پرندوں سے جو میرے سر پر منڈلا رہے تھے کہا، ”آؤ، اللہ کی بڑی ضیافت کے لئے جمع ہو جاؤ۔