¶ لیکن لوگوں نے سموایل کی بات نہ مانی بلکہ کہا، ”نہیں، توبھی ہم بادشاہ چاہتے ہیں،
TSK
TSK · ۲-سلاطِین 21:9
Treasury of Scripture Knowledge references in کتابِ مقدّس.
کیونکہ اُس نے اسرائیل کے بادشاہوں کا چال چلن اپنایا، یہاں تک کہ اُس نے اپنے بیٹے کو قربانی کے طور پر جلا دیا۔ یوں وہ اُن قوموں کے گھنونے رسم و رواج ادا کرنے لگا جنہیں رب نے اسرائیلیوں کے آگے ملک سے نکال دیا تھا۔
لیکن لوگوں نے اللہ کے پیغمبروں کا مذاق اُڑایا، اُن کے پیغام حقیر جانے اور نبیوں کو لعن طعن کی۔ آخرکار رب کا غضب اُن پر نازل ہوا، اور بچنے کا کوئی راستہ نہ رہا۔
¶ اِس کے باوجود وہ تابع نہ رہے بلکہ سرکش ہوئے۔ اُنہوں نے اپنا منہ تیری شریعت سے پھیر لیا۔ اور جب تیرے نبی اُنہیں سمجھا سمجھا کر تیرے پاس واپس لانا چاہتے تھے تو اُنہوں نے بڑے کفر بک کر اُنہیں قتل کر دیا۔
¶ گو بےدین آزادی سے اِدھر اُدھر پھرتے ہیں، اور انسانوں کے درمیان کمینہ پن کا راج ہے۔
¶ جو حکمران جھوٹ پر دھیان دے اُس کے تمام ملازم بےدین ہوں گے۔
رب قادرِ مطلق فرماتا ہے، ”تمہاری حرکتیں ارد گرد کی قوموں کی نسبت کہیں زیادہ بُری ہیں۔ نہ تم نے میری ہدایات کے مطابق زندگی گزاری، نہ میرے احکام پر عمل کیا۔ بلکہ تم اِتنے شرارتی تھے کہ گرد و نواح کی اقوام کے رسم و رواج سے بھی بدتر زندگی گزارنے لگے۔“
تُو نہ صرف اُن کے غلط نمونے پر چل پڑی اور اُن کی سی مکروہ حرکتیں کرنے لگی بلکہ اُن سے کہیں زیادہ بُرا کام کرنے لگی۔‘
اُسے بتا، ’رب قادرِ مطلق فرماتا ہے کہ اے یروشلم بیٹی، تیرا انجام قریب ہی ہے، اور یہ تیرا اپنا قصور ہے۔ کیونکہ تُو نے اپنے درمیان معصوموں کا خون بہایا اور اپنے لئے بُت بنا کر اپنے آپ کو ناپاک کر دیا ہے۔
نہ ہم رب اپنے خدا کے تابع رہے، نہ اُس کے اُن احکام کے مطابق زندگی گزاری جو اُس نے ہمیں اپنے خادموں یعنی نبیوں کی معرفت دیئے تھے۔
¶ ہائے یروشلم، یروشلم! تُو جو نبیوں کو قتل کرتی اور اپنے پاس بھیجے ہوئے پیغمبروں کو سنگسار کرتی ہے۔ مَیں نے کتنی ہی بار تیری اولاد کو جمع کرنا چاہا، بالکل اُسی طرح جس طرح مرغی اپنے بچوں کو اپنے پَروں تلے جمع کر کے محفوظ کر لیتی ہے۔ لیکن تُو نے نہ چاہا۔
¶ چنانچہ جو جانتا ہے کہ اُسے کیا کیا نیک کام کرنا ہے، لیکن پھر بھی کچھ نہیں کرتا وہ گناہ کرتا ہے۔