”اسرائیلیوں کو ہدایت دینا کہ اگر کوئی آدمی یا عورت مَنت مان کر اپنے آپ کو ایک مقررہ وقت کے لئے رب کے لئے مخصوص کرے
TSK
TSK · عاموس 2:11
Treasury of Scripture Knowledge references in کتابِ مقدّس.
مَے یا کوئی اَور نشہ آور چیز مت پینا، نہ کوئی ناپاک چیز کھانا۔
پورے اسرائیل نے دان سے لے کر بیرسبع تک جان لیا کہ رب نے اپنے نبی سموایل کی تصدیق کی ہے۔
¶ ایک دن الیاس نبی نے جو جِلعاد کے شہر تِشبی کا تھا اخی اب بادشاہ سے کہا، ”رب اسرائیل کے خدا کی قَسم جس کی خدمت مَیں کرتا ہوں، آنے والے سالوں میں نہ اوس، نہ بارش پڑے گی جب تک مَیں نہ کہوں۔“
اِسی طرح یاہو بن نِمسی کو مسح کر کے اسرائیل کا بادشاہ قرار دے اور ابیل محولہ کے رہنے والے الیشع بن سافط کو مسح کر کے اپنا جانشین مقرر کر۔
¶ اُس وقت رب نے نبیوں میں سے ایک کو ہدایت کی، ”جا کر اپنے ساتھی کو کہہ دے کہ وہ تجھے مارے۔“ نبی نے ایسا کیا، لیکن ساتھی نے انکار کیا۔
اسرائیل کا بادشاہ بولا، ”ہاں، ایک تو ہے جس کے ذریعے ہم رب کی مرضی معلوم کر سکتے ہیں۔ لیکن مَیں اُس سے نفرت کرتا ہوں، کیونکہ وہ میرے بارے میں کبھی بھی اچھی پیش گوئی نہیں کرتا۔ وہ ہمیشہ بُری پیش گوئیاں سناتا ہے۔ اُس کا نام میکایاہ بن اِملہ ہے۔“ یہوسفط نے اعتراض کیا، ”بادشاہ ایسی بات نہ کہے!“
¶ ایک دن کچھ نبی الیشع کے پاس آ کر شکایت کرنے لگے، ”جس تنگ جگہ پر ہم آپ کے پاس آ کر ٹھہرے ہیں اُس میں ہمارے لئے رہنا مشکل ہے۔
¶ بار بار رب اُن کے باپ دادا کا خدا اپنے پیغمبروں کو اُن کے پاس بھیج کر اُنہیں سمجھاتا رہا، کیونکہ اُسے اپنی قوم اور سکونت گاہ پر ترس آتا تھا۔
غیب بینوں کو وہ کہتے ہیں، ”رویا سے باز آؤ۔“ اور رویا دیکھنے والوں کو وہ حکم دیتے ہیں، ”ہمیں سچی رویا مت بتانا بلکہ ہماری خوشامد کرنے والی باتیں۔ فریب دہ رویا دیکھ کر ہمارے آگے بیان کرو!
¶ اے موجودہ نسل، رب کے کلام پر دھیان دو! کیا مَیں اسرائیل کے لئے ریگستان یا تاریک ترین علاقے کی مانند تھا؟ میری قوم کیوں کہتی ہے، ’اب ہم آزادی سے اِدھر اُدھر پھر سکتے ہیں، آئندہ ہم تیرے حضور نہیں آئیں گے؟‘
¶ رب فرماتا ہے، ”عنتوت کے آدمی تجھے قتل کرنا چاہتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں، ’رب کا نام لے کر نبوّت مت کرنا، ورنہ تُو ہمارے ہاتھوں مار دیا جائے گا‘۔“
¶ صیون کے رئیس کتنے شاندار تھے! جِلد برف جیسی نکھری، دودھ جیسی سفید تھی۔ رخسار مونگے کی طرح گلابی، شکل و صورت سنگِ لاجورد جیسی چمک دار تھی۔
¶ وہ نبوّت کرتے ہیں، ”نبوّت مت کرو! نبوّت کرتے وقت انسان کو اِس قسم کی باتیں نہیں سنانی چاہئیں۔ یہ صحیح نہیں کہ ہماری رُسوائی ہو جائے گی۔“
جب انگور کو توڑنے کا وقت قریب آ گیا تو اُس نے اپنے نوکروں کو مزارعوں کے پاس بھیج دیا تاکہ وہ اُن سے مالک کا حصہ وصول کریں۔
¶ چنانچہ اُنہوں نے دونوں کو بُلا کر حکم دیا کہ وہ آئندہ عیسیٰ کے نام سے نہ کبھی بولیں اور نہ تعلیم دیں۔
¶ اے گردن کش لوگو! بےشک آپ کا ختنہ ہوا ہے جو اللہ کی قوم کا ظاہری نشان ہے۔ لیکن اُس کا آپ کے دلوں اور کانوں پر کچھ بھی اثر نہیں ہوا۔ آپ اپنے باپ دادا کی طرح ہمیشہ روح القدس کی مخالفت کرتے رہتے ہیں۔
سب سے بڑھ کر آپ کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ کلامِ مُقدّس کی کوئی بھی پیش گوئی نبی کی اپنی ہی تفسیر سے پیدا نہیں ہوتی۔