¶ ختنہ رب کی قوم کا ظاہری نشان ہے۔ لیکن اُس وقت رب تیرا خدا تیرے اور تیری اولاد کا باطنی ختنہ کرے گا تاکہ تُو اُسے پورے دل و جان سے پیار کرے اور جیتا رہے۔
TSK
TSK · کُلسِیوں 2:11
Treasury of Scripture Knowledge references in کتابِ مقدّس.
”ہم نے اِسے یہ کہتے سنا ہے کہ مَیں انسان کے ہاتھوں کے بنے اِس بیت المُقدّس کو ڈھا کر تین دن کے اندر اندر نیا مقدِس تعمیر کر دوں گا، ایک ایسا مقدِس جو انسان کے ہاتھ نہیں بنائیں گے۔“
¶ حقیقت میں اللہ تعالیٰ انسان کے ہاتھ کے بنائے ہوئے مکانوں میں نہیں رہتا۔ نبی رب کا فرمان یوں بیان کرتا ہے،
بلکہ حقیقی یہودی وہ ہے جو باطن میں یہودی ہے۔ اور حقیقی ختنہ اُس وقت ہوتا ہے جب دل کا ختنہ ہوا ہے۔ ایسا ختنہ شریعت سے نہیں بلکہ روح القدس کے وسیلے سے کیا جاتا ہے۔ اور ایسے یہودی کو انسان کی طرف سے نہیں بلکہ اللہ کی طرف سے تعریف ملتی ہے۔
¶ ہم تو جانتے ہیں کہ جب ہماری دنیاوی جھونپڑی جس میں ہم رہتے ہیں گرائی جائے گی تو اللہ ہمیں آسمان پر ایک مکان دے گا، ایک ایسا ابدی گھر جسے انسانی ہاتھوں نے نہیں بنایا ہو گا۔
اور یوں مَیں خود زندہ نہ رہا بلکہ مسیح مجھ میں زندہ ہے۔ اب جو زندگی مَیں اِس جسم میں گزارتا ہوں وہ اللہ کے فرزند پر ایمان لانے سے گزارتا ہوں۔ اُسی نے مجھ سے محبت رکھ کر میرے لئے اپنی جان دی۔
اور جو مسیح عیسیٰ کے ہیں اُنہوں نے اپنی پرانی فطرت کو اُس کی رغبتوں اور بُری خواہشوں سمیت مصلوب کر دیا ہے۔
چنانچہ اپنے پرانے انسان کو اُس کے پرانے چال چلن سمیت اُتار دینا، کیونکہ وہ اپنی دھوکے باز شہوتوں سے بگڑتا جا رہا ہے۔
¶ لیکن اب وقت آ گیا ہے کہ آپ یہ سب کچھ یعنی غصہ، طیش، بدسلوکی، بہتان اور گندی زبان خستہ حال کپڑے کی طرح اُتار کر پھینک دیں۔
کیونکہ مسیح صرف انسانی ہاتھوں سے بنے مقدِس میں داخل نہیں ہوا جو اصلی مقدِس کی صرف نقلی صورت تھی بلکہ وہ آسمان میں ہی داخل ہوا تاکہ اب سے ہماری خاطر اللہ کے سامنے حاضر ہو۔