داؤد بولا، ”ڈریں مت۔ آج مَیں آپ کے باپ یونتن کے ساتھ کیا ہوا وعدہ پورا کر کے آپ پر اپنی مہربانی کا اظہار کرنا چاہتا ہوں۔ اب سنیں! مَیں آپ کو آپ کے دادا ساؤل کی تمام زمینیں واپس کر دیتا ہوں۔ اِس کے علاوہ مَیں چاہتا ہوں کہ آپ روزانہ میرے ساتھ کھانا کھایا کریں۔“
TSK
TSK · دانیال 5:2
Treasury of Scripture Knowledge references in کتابِ مقدّس.
¶ جس کا اعلان رب نے پہلے کیا تھا وہ اب پورا ہوا، نبوکدنضر نے رب کے گھر اور شاہی محل کے تمام خزانے چھین لئے۔ اُس نے سونے کا وہ سارا سامان بھی لُوٹ لیا جو سلیمان نے رب کے گھر کے لئے بنوایا تھا۔
بعد میں رحبعام کی معکہ بنت ابی سلوم سے شادی ہوئی۔ اِس رشتے سے چار بیٹے ابیاہ، عتّی، زیزا اور سلومیت پیدا ہوئے۔
بہار کے موسم میں نبوکدنضر بادشاہ نے حکم دیا کہ اُسے گرفتار کر کے بابل لے جایا جائے۔ ساتھ ساتھ فوجیوں نے رب کے گھر کی قیمتی چیزیں بھی چھین کر بابل پہنچائیں۔ یہویاکین کی جگہ نبوکدنضر نے یہویاکین کے چچا صِدقیاہ کو یہوداہ اور یروشلم کا بادشاہ بنا دیا۔
¶ خورس بادشاہ نے وہ چیزیں واپس کر دیں جو نبوکدنضر نے یروشلم میں رب کے گھر سے لُوٹ کر اپنے دیوتا کے مندر میں رکھ دی تھیں۔
تمام اقوام اُس کی اور اُس کے بیٹے اور پوتے کی خدمت کریں گی۔ پھر ایک وقت آئے گا کہ بابل کی حکومت ختم ہو جائے گی۔ تب متعدد قومیں اور بڑے بڑے بادشاہ اُسے اپنے ہی تابع کر لیں گے۔
خالص سونے اور چاندی کے برتن بھی اِس میں شامل تھے یعنی باسن، جلتے ہوئے کوئلے کے برتن، چھڑکاؤ کے کٹورے، بالٹیاں، شمع دان، پیالے اور مَے کی نذریں پیش کرنے کے برتن۔ شاہی محافظوں کا یہ افسر سارا سامان اُٹھا کر بابل لے گیا۔
سونے، چاندی، پیتل، لوہے، لکڑی اور پتھر کے اپنے بُتوں کی تمجید کرنے لگے۔
¶ یہ سن کر بادشاہ نے دانیال کو فوراً بُلا لیا۔ جب پہنچا تو بادشاہ اُس سے مخاطب ہوا، ”کیا تم وہ دانیال ہو جسے میرے باپ نبوکدنضر بادشاہ یہوداہ کے جلاوطنوں کے ساتھ یہوداہ سے یہاں لائے تھے؟
بلکہ آسمان کے مالک کے خلاف اُٹھ کھڑے ہو گئے ہیں۔ آپ نے حکم دیا کہ اُس کے گھر کے پیالے آپ کے حضور لائے جائیں، اور آپ نے اپنے بڑوں، بیویوں اور داشتاؤں کے ساتھ اُنہیں مَے پینے کے لئے استعمال کیا۔ ساتھ ساتھ آپ نے اپنے دیوتاؤں کی تمجید کی گو وہ چاندی، سونے، پیتل، لوہے، لکڑی اور پتھر کے بُت ہی ہیں۔ نہ وہ دیکھ سکتے، نہ سن یا سمجھ سکتے ہیں۔ لیکن جس خدا کے ہاتھ میں آپ کی جان اور آپ کی تمام راہیں ہیں اُس کا احترام آپ نے نہیں کیا۔