فرعون نے کچھ لوگوں کو اُن کے پاس بھیج دیا تو پتا چلا کہ ایک بھی جانور نہیں مرا۔ تاہم فرعون اَڑا رہا۔ اُس نے اسرائیلیوں کو جانے نہ دیا۔
TSK
TSK · دانیال 5:20
Treasury of Scripture Knowledge references in کتابِ مقدّس.
اب مَیں نے جان لیا ہے کہ رب تمام معبودوں سے عظیم ہے، کیونکہ اُس نے یہ سب کچھ اُن لوگوں کے ساتھ کیا جنہوں نے اپنے غرور میں اسرائیلیوں کے ساتھ بُرا سلوک کیا تھا۔“
¶ لیکن وہ سننے کے لئے تیار نہیں تھے بلکہ اپنے باپ دادا کی طرح اَڑ گئے، کیونکہ وہ بھی رب اپنے خدا پر بھروسا نہیں کرتے تھے۔
صِدقیاہ کو اللہ کی قَسم کھا کر نبوکدنضر بادشاہ کا وفادار رہنے کا وعدہ کرنا پڑا۔ توبھی وہ کچھ دیر کے بعد سرکش ہو گیا۔ وہ اَڑ گیا، اور اُس کا دل اِتنا سخت ہو گیا کہ وہ رب اسرائیل کے خدا کی طرف دوبارہ رجوع کرنے کے لئے تیار نہیں تھا۔
بیک وقت اپنا شدید قہر مختلف جگہوں پر نازل کر، ہر مغرور کو اپنا نشانہ بنا کر اُسے خاک میں ملا دے۔
¶ تباہی سے پہلے غرور اور گرنے سے پہلے تکبر آتا ہے۔
¶ اے کنواری بابل بیٹی، اُتر جا! خاک میں بیٹھ جا! اے بابلیوں کی بیٹی، زمین پر بیٹھ جا جہاں تخت نہیں ہے! اب سے لوگ تجھ سے نہیں کہیں گے، ’اے میری نازپروَردہ، اے میری لاڈلی!‘
”رب الافواج جو اسرائیل کا خدا ہے فرماتا ہے کہ سنو! مَیں اِس شہر اور یہوداہ کے دیگر شہروں پر وہ تمام مصیبت لانے کو ہوں جس کا اعلان مَیں نے کیا ہے۔ کیونکہ تم اَڑ گئے ہو اور میری باتیں سننے کے لئے تیار ہی نہیں۔“
رب قادرِ مطلق فرماتا ہے کہ مصر کو سہارا دینے والے سب گر جائیں گے، اور جس طاقت پر وہ فخر کرتا ہے وہ جاتی رہے گی۔ شمال میں مجدال سے لے کر جنوبی شہر اسوان تک اُنہیں تلوار مار ڈالے گی۔ یہ رب قادرِ مطلق کا فرمان ہے۔
لیکن خواب میں یہ بھی کہا گیا کہ درخت کے مُڈھ کو جڑوں سمیت زمین میں چھوڑا جائے۔ اِس کا مطلب ہے کہ آپ کی سلطنت تاہم قائم رہے گی۔ جب آپ اعتراف کریں گے کہ تمام اختیار آسمان کے ہاتھ میں ہے تو آپ کو سلطنت واپس ملے گی۔
تب وہ کہنے لگا، ”لو، یہ عظیم شہر دیکھو جو مَیں نے اپنی رہائش کے لئے تعمیر کیا ہے! یہ سب کچھ مَیں نے اپنی ہی زبردست قوت سے بنا لیا ہے تاکہ میری شان و شوکت مزید بڑھتی جائے۔“
¶ اُس کی قدرت نے عظیم کام کر دکھائے ہیں، اور دل سے مغرور لوگ تتر بتر ہو گئے ہیں۔
اِس کے بجائے جب تک اللہ کا یہ فرمان قائم ہے روزانہ ایک دوسرے کی حوصلہ افزائی کریں تاکہ آپ میں سے کوئی بھی گناہ کے فریب میں آ کر سخت دل نہ ہو۔