عیلی سڑک کے کنارے اپنی کرسی پر بیٹھا تھا۔ وہ اب اندھا ہو چکا تھا، کیونکہ اُس کی عمر 98 سال تھی۔ وہ بڑی بےچینی سے راستے پر دھیان دے رہا تھا تاکہ جنگ کی کوئی تازہ خبر مل جائے، کیونکہ اُسے اِس بات کی بڑی فکر تھی کہ اللہ کا صندوق لشکرگاہ میں ہے۔ جب وہ آدمی شہر میں داخل ہوا اور لوگوں کو سارا ماجرا سنایا تو پورا شہر چلّانے لگا۔ جب عیلی نے شور سنا تو اُس نے پوچھا، ”یہ کیا شور ہے؟“ بن یمینی دوڑ کر عیلی کے پاس آیا اور بولا،
TSK
TSK · آستر 4:3
Treasury of Scripture Knowledge references in کتابِ مقدّس.
¶ اخسویرس بادشاہ کی سلطنت بھارت سے لے کر ایتھوپیا تک 127 صوبوں پر مشتمل تھی۔
”ٹھیک ہے، پھر جائیں اور سوسن میں رہنے والے تمام یہودیوں کو جمع کریں۔ میرے لئے روزہ رکھ کر تین دن اور تین رات نہ کچھ کھائیں، نہ پئیں۔ مَیں بھی اپنی نوکرانیوں کے ساتھ مل کر روزہ رکھوں گی۔ اِس کے بعد بادشاہ کے پاس جاؤں گی، گو یہ قانون کے خلاف ہے۔ اگر مرنا ہے تو مر ہی جاؤں گی۔“
تب ایوب راکھ میں بیٹھ گیا اور ٹھیکرے سے اپنی جِلد کو کھرچنے لگا۔
¶ اُس وقت قادرِ مطلق رب الافواج نے حکم دیا کہ گریہ و زاری کرو، اپنے بالوں کو منڈوا کر ٹاٹ کا لباس پہن لو۔
کیا مجھے اِس قسم کا روزہ پسند ہے؟ کیا یہ کافی ہے کہ بندہ اپنے آپ کو کچھ دیر کے لئے خاک سار بنا کر انکساری کا اظہار کرے؟ کہ وہ اپنے سر کو آبی نرسل کی طرح جھکا کر ٹاٹ اور راکھ میں لیٹ جائے؟ کیا تم واقعی سمجھتے ہو کہ یہ روزہ ہے، کہ ایسا وقت رب کو پسند ہے؟
چنانچہ مَیں نے رب اپنے خدا کی طرف رجوع کیا تاکہ اپنی دعا اور التجاؤں سے اُس کی مرضی دریافت کروں۔ ساتھ ساتھ مَیں نے روزہ رکھا، ٹاٹ کا لباس اوڑھ لیا اور اپنے سر پر راکھ ڈال لی۔
وہ اُنہیں بھڑکتی بھٹی میں پھینک دیں گے جہاں لوگ روتے اور دانت پیستے رہیں گے۔
اب اِس بےکار نوکر کو نکال کر باہر کی تاریکی میں پھینک دو، وہاں جہاں لوگ روتے اور دانت پیستے رہیں گے۔‘