TSK

TSK · عبرانیوں 3:12

Treasury of Scripture Knowledge references in کتابِ مقدّس.

واپس گزرنے پر

¶ اور یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ سے کہتے ہیں، ’ہم سے دُور ہو جا، ہم تیری راہوں کو جاننا نہیں چاہتے۔

¶ کیونکہ مَیں رب کی راہوں پر چلتا رہا ہوں، مَیں بدی کرنے سے اپنے خدا سے دُور نہیں ہوا۔

ہم مانتے ہیں کہ رب سے بےوفا رہے بلکہ اُس کا انکار بھی کیا ہے۔ ہم نے اپنا منہ اپنے خدا سے پھیر کر ظلم اور دھوکے کی باتیں پھیلائی ہیں۔ ہمارے دلوں میں جھوٹ کا بیج بڑھتے بڑھتے منہ میں سے نکلا۔

کیونکہ اُس وقت یروشلم ’رب کا تخت‘ کہلائے گا، اور اُس میں تمام اقوام رب کے نام کی تعظیم میں جمع ہو جائیں گی۔ تب وہ اپنے شریر اور ضدی دلوں کے مطابق زندگی نہیں گزاریں گی۔

لیکن اُنہوں نے نہ میری سنی، نہ دھیان دیا بلکہ ہر ایک اپنے شریر دل کی ضد کے مطابق زندگی گزارتا رہا۔ عہد کی جن باتوں پر مَیں نے اُنہیں عمل کرنے کا حکم دیا تھا اُن پر اُنہوں نے عمل نہ کیا۔ نتیجے میں مَیں اُن پر وہ تمام لعنتیں لایا جو عہد میں بیان کی گئی ہیں۔“

¶ رب فرماتا ہے، ”اُس پر لعنت جس کا دل رب سے دُور ہو کر صرف انسان اور اُسی کی طاقت پر بھروسا رکھتا ہے۔

لیکن افسوس، یہ اعتراض کریں گے، ’دفع کرو! ہم اپنے ہی منصوبے جاری رکھیں گے۔ ہر ایک اپنے شریر دل کی ضد کے مطابق ہی زندگی گزارے گا‘۔“

¶ جب رب پہلی بار ہوسیع سے ہم کلام ہوا تو اُس نے حکم دیا، ”جا، زناکار عورت سے شادی کر اور زناکار بچے پیدا کر، کیونکہ ملک رب کی پیروی چھوڑ کر مسلسل زنا کرتا رہتا ہے۔“

¶ عیسیٰ نے جواب دیا، ”خبردار رہو کہ کوئی تمہیں گم راہ نہ کر دے۔

¶ تم خود خبردار رہو۔ تم کو مقامی عدالتوں کے حوالے کر دیا جائے گا اور لوگ یہودی عبادت خانوں میں تمہیں کوڑے لگوائیں گے۔ میری خاطر تمہیں حکمرانوں اور بادشاہوں کے سامنے پیش کیا جائے گا۔ یوں تم اُنہیں میری گواہی دو گے۔

چنانچہ خبردار اور چوکنے رہو! کیونکہ تم کو نہیں معلوم کہ یہ وقت کب آئے گا۔

اللہ نے اصلی شاخیں بچنے نہ دیں۔ اگر آپ اِس طرح کی حرکتیں کریں تو کیا وہ آپ کو چھوڑ دے گا؟

کیونکہ لوگ ہر جگہ بات کر رہے ہیں کہ آپ نے ہمیں کس طرح خوش آمدید کہا ہے، کہ آپ نے کس طرح بُتوں سے منہ پھیر کر اللہ کی طرف رجوع کیا تاکہ زندہ اور حقیقی خدا کی خدمت کریں۔

¶ اِس لئے مجھے اُس نسل پر غصہ آیا اور مَیں بولا، ’اُن کے دل ہمیشہ صحیح راہ سے ہٹ جاتے ہیں اور وہ میری راہیں نہیں جانتے۔‘

اِس پر دھیان دینا کہ کوئی اللہ کے فضل سے محروم نہ رہے۔ ایسا نہ ہو کہ کوئی کڑوی جڑ پھوٹ نکلے اور بڑھ کر تکلیف کا باعث بن جائے اور بہتوں کو ناپاک کر دے۔