¶ اسرائیل کے بادشاہ نے تقریباً 400 نبیوں کو بُلا کر اُن سے پوچھا، ”کیا مَیں رامات جِلعاد پر حملہ کروں یا اِس ارادے سے باز رہوں؟“ نبیوں نے جواب دیا، ”جی کریں، کیونکہ رب اُسے بادشاہ کے حوالے کر دے گا۔“
TSK
TSK · ہوسیع 7:3
Treasury of Scripture Knowledge references in کتابِ مقدّس.
کیونکہ نبی جھوٹی پیش گوئیاں سناتے اور امام اپنی ہی مرضی سے حکومت کرتے ہیں۔ اور میری قوم اُن کا یہ رویہ عزیز رکھتی ہے۔ لیکن مجھے بتاؤ، جب یہ سب کچھ ختم ہو جائے گا تو پھر تم کیا کرو گے؟
¶ اُسی سال کے پانچویں مہینے میں جِبعون کا رہنے والا نبی حننیاہ بن عزور رب کے گھر میں آیا۔ اُس وقت یعنی صِدقیاہ کی حکومت کے چوتھے سال میں وہ اماموں اور قوم کی موجودگی میں مجھ سے مخاطب ہوا،
کوسنا، جھوٹ بولنا، چوری اور زنا کرنا عام ہو گیا ہے۔ روز بہ روز قتل و غارت کی نئی خبریں ملتی رہتی ہیں۔
ہمارے بادشاہ کے جشن پر راہنما مَے پی پی کر مست ہو جاتے ہیں، اور وہ کفر بکنے والوں سے ہاتھ ملاتا ہے۔
تُو اسرائیل کے بادشاہوں عُمری اور اخی اب کے نمونے پر چل پڑا ہے، آج تک اُن ہی کے منصوبوں کی پیروی کرتا آیا ہے۔ اِس لئے مَیں تجھے تباہی کے حوالے کر دوں گا، تیرے لوگوں کو مذاق کا نشانہ بناؤں گا۔ تجھے دیگر اقوام کی لعن طعن برداشت کرنی پڑے گی۔“
اگرچہ وہ اللہ کا فرمان جانتے ہیں کہ ایسا کرنے والے سزائے موت کے مستحق ہیں توبھی وہ ایسا کرتے ہیں۔ نہ صرف یہ بلکہ وہ ایسا کرنے والے دیگر لوگوں کو شاباش بھی دیتے ہیں۔