TSK

TSK · یسعیاہ 17:3

Treasury of Scripture Knowledge references in کتابِ مقدّس.

واپس گزرنے پر

تِگلت پِل ایسر راضی ہو گیا۔ اُس نے دمشق پر حملہ کر کے شہر پر قبضہ کر لیا اور اُس کے باشندوں کو گرفتار کر کے قیر کو لے گیا۔ رضین کو اُس نے قتل کر دیا۔

کیونکہ شام کا سر دمشق اور دمشق کا سر محض رضین ہے۔ جہاں تک ملکِ اسرائیل کا تعلق ہے، 65 سال کے اندر اندر وہ چِکنا چُور ہو جائے گا، اور قوم نیست و نابود ہو جائے گی۔

کیونکہ اِس سے پہلے کہ لڑکا ’ابو‘ یا ’امی‘ کہہ سکے دمشق کی دولت اور سامریہ کا مال و اسباب چھین لیا گیا ہو گا، اسور کے بادشاہ نے سب کچھ لُوٹ لیا ہو گا۔“

لیکن اب وہ مزید فرماتا ہے، ”تین سال کے اندر اندر موآب کی تمام شان و شوکت اور دھوم دھام جاتی رہے گی۔ جو تھوڑے بہت بچیں گے، وہ نہایت ہی کم ہوں گے۔“

¶ سامریہ پر افسوس جو اسرائیلی شرابیوں کا شاندار تاج ہے۔ اُس شہر پر افسوس جو اسرائیل کی شان و شوکت تھا لیکن اب مُرجھانے والا پھول ہے۔ اُس آبادی پر افسوس جو نشے میں دُھت لوگوں کی زرخیز وادی کے اوپر تخت نشین ہے۔

¶ اِس کے بعد جُمر دوبارہ اُمید سے ہوئی۔ اِس بار بیٹی پیدا ہوئی۔ رب نے ہوسیع سے کہا، ”اِس کا نام لورُحامہ یعنی ’جس پر رحم نہ ہوا ہو‘ رکھنا، کیونکہ آئندہ مَیں اسرائیلیوں پر رحم نہیں کروں گا بلکہ وہ میرے رحم سے سراسر محروم رہیں گے۔

¶ اسرائیل نے اپنی بیماری دیکھی اور یہوداہ نے اپنے ناسور پر غور کیا۔ تب اسرائیل نے اسور کی طرف رجوع کیا اور اسور کے عظیم بادشاہ کو پیغام بھیج کر اُس سے مدد مانگی۔ لیکن وہ تمہیں شفا نہیں دے سکتا، وہ تمہارے ناسور کا علاج نہیں کر سکتا۔

اب اسرائیل کی شان و شوکت پرندے کی طرح اُڑ کر غائب ہو جائے گی۔ آئندہ نہ کوئی اُمید سے ہو گی، نہ بچہ جنے گی۔

اِس لئے تیری قوم میں جنگ کا شور مچے گا، تیرے تمام قلعے خاک میں ملائے جائیں گے۔ شلمن کے بیت اربیل پر حملے کے سے حالات ہوں گے جس نے اُس شہر کو زمین بوس کر کے ماؤں کو بچوں سمیت زمین پر پٹخ دیا۔

خواہ وہ اپنے بھائیوں کے درمیان پھلتا پھولتا کیوں نہ ہو توبھی رب کی طرف سے مشرقی لُو اُس پر چلے گی۔ اور جب ریگستان سے آئے گی تو اسرائیل کے کنوئیں اور چشمے خشک ہو جائیں گے۔ ہر خزانہ، ہر قیمتی چیز لُوٹ کا مال بن جائے گی۔

¶ اشدود اور مصر کے محلوں کو اطلاع دو، ”سامریہ کے پہاڑوں پر جمع ہو کر اُس پر نظر ڈالو جو کچھ شہر میں ہو رہا ہے۔ کتنی بڑی ہل چل مچ گئی ہے، کتنا ظلم ہو رہا ہے۔“

¶ اِس لئے تم اُن لوگوں میں سے ہو گے جو پہلے قیدی بن کر جلاوطن ہو جائیں گے۔ تب تمہاری رنگ رلیاں بند ہو جائیں گی، تمہاری آوارہ گرد اور کاہل زندگی ختم ہو جائے گی۔

اُس کے پاؤں تلے پہاڑ پگھل جائیں گے اور وادیاں پھٹ جائیں گی، وہ آگ کے سامنے پگھلنے والے موم یا ڈھلان پر اُنڈیلے گئے پانی کی مانند ہوں گے۔