TSK

TSK · یسعیاہ 3:5

Treasury of Scripture Knowledge references in کتابِ مقدّس.

واپس گزرنے پر

¶ جب داؤد بادشاہ بحوریم کے قریب پہنچا تو ایک آدمی وہاں سے نکل کر اُس پر لعنتیں بھیجنے لگا۔ آدمی کا نام سِمعی بن جیرا تھا، اور وہ ساؤل کا رشتے دار تھا۔

¶ لیکن اب وہ میرا مذاق اُڑاتے ہیں، حالانکہ اُن کی عمر مجھ سے کم ہے اور مَیں اُن کے باپوں کو اپنی بھیڑبکریوں کی دیکھ بھال کرنے والے کُتوں کے ساتھ کام پر لگانے کے بھی لائق نہیں سمجھتا تھا۔

¶ اے گناہ گار قوم، تجھ پر افسوس! اے سنگین قصور میں پھنسی ہوئی اُمّت، تجھ پر افسوس! شریر نسل، بدچلن بچے! اُنہوں نے رب کو ترک کر دیا ہے۔ ہاں، اُنہوں نے اسرائیل کے قدوس کو حقیر جان کر رد کیا، اپنا منہ اُس سے پھیر لیا ہے۔

رب الافواج کے غضب سے ملک جُھلس جائے گا اور اُس کے باشندے آگ کا لقمہ بن جائیں گے۔ یہاں تک کہ کوئی بھی اپنے بھائی پر ترس نہیں کھائے گا۔

¶ ”مَیں مصریوں کو ایک دوسرے کے ساتھ لڑنے پر اُکسا دوں گا۔ بھائی بھائی کے ساتھ، پڑوسی پڑوسی کے ساتھ، شہر شہر کے ساتھ، اور بادشاہی بادشاہی کے ساتھ جنگ کرے گی۔

لیکن تُو فرق ہے۔ تیری آنکھیں اور دل ناجائز نفع کمانے پر تُلے رہتے ہیں۔ نہ تُو بےقصور کو قتل کرنے سے، نہ ظلم کرنے یا جبراً کچھ لینے سے جھجکتا ہے۔“

تجھ میں ایسے لوگ ہیں جو رشوت کے عوض قتل کرتے ہیں۔ سود قابلِ قبول ہے، اور لوگ ایک دوسرے پر ظلم کر کے ناجائز نفع کماتے ہیں۔ رب قادرِ مطلق فرماتا ہے کہ اے یروشلم، تُو مجھے سراسر بھول گئی ہے!

¶ مَیں بولا، ”اے یعقوب کے راہنماؤ، اے اسرائیل کے بزرگو، سنو! تمہیں انصاف کو جاننا چاہئے۔

ملک میں سے دیانت دار مٹ گئے ہیں، ایک بھی ایمان دار نہیں رہا۔ سب تاک میں بیٹھے ہیں تاکہ ایک دوسرے کو قتل کریں، ہر ایک اپنا جال بچھا کر اپنے بھائی کو پکڑنے کی کوشش کرتا ہے۔

کیونکہ بیٹا اپنے باپ کی حیثیت نہیں مانتا، بیٹی اپنی ماں کے خلاف کھڑی ہو جاتی اور بہو اپنی ساس کی مخالفت کرتی ہے۔ تمہارے اپنے ہی گھر والے تمہارے دشمن ہیں۔

¶ اِس لئے رب فرماتا ہے کہ مَیں بھی ملک کے باشندوں پر ترس نہیں کھاؤں گا۔ مَیں ہر ایک کو اُس کے پڑوسی اور اُس کے بادشاہ کے حوالے کروں گا۔ وہ ملک کو ٹکڑے ٹکڑے کریں گے، اور مَیں اُنہیں اُن کے ہاتھ سے نہیں چھڑاؤں گا۔“

¶ پھر وہ اُس پر تھوکنے اور اُس کے مُکے مارنے لگے۔ بعض نے اُس کے تھپڑ مار مار کر

¶ پھر کچھ اُس پر تھوکنے لگے۔ اُنہوں نے اُس کی آنکھوں پر پٹی باندھی اور اُسے مُکے مار مار کر کہنے لگے، ”نبوّت کر!“ ملازموں نے بھی اُسے تھپڑ مارے۔

لیکن آپ نے ضرورت مندوں کی بےعزتی کی ہے۔ ذرا سوچ لیں، وہ کون ہیں جو آپ کو دباتے اور عدالت میں گھسیٹ کر لے جاتے ہیں؟ کیا یہ دولت مند ہی نہیں ہیں؟