¶ پھر یشوع اسرائیلی قوم سے مخاطب ہوا۔ ”رب اسرائیل کا خدا فرماتا ہے، ’قدیم زمانے میں تمہارے باپ دادا دریائے فرات کے پار بستے اور دیگر معبودوں کی پوجا کرتے تھے۔ ابراہیم اور نحور کا باپ تارح بھی وہاں آباد تھا۔
TSK
TSK · یسعیاہ 41:9
Treasury of Scripture Knowledge references in کتابِ مقدّس.
¶ تُو ہی رب اور وہ خدا ہے جس نے ابرام کو چن لیا اور کسدیوں کے شہر اُور سے باہر لا کر ابراہیم کا نام رکھا۔
¶ رب کے نجات یافتہ جن کو اُس نے عوضانہ دے کر دشمن کے قبضے سے چھڑایا ہے سب یہ کہیں۔
¶ ”لیکن تُو میرے خادم اسرائیل، تُو فرق ہے۔ اے یعقوب کی قوم، مَیں نے تجھے چن لیا، اور تُو میرے دوست ابراہیم کی اولاد ہے۔
لیکن رب فرماتا ہے، ”جو عہد مَیں نے دن اور رات سے باندھا ہے وہ مَیں نہیں توڑوں گا، نہ کبھی آسمان و زمین کے مقررہ اصول منسوخ کروں گا۔
¶ تو کیا اِس کا یہ مطلب ہے کہ اللہ نے اپنی قوم کو رد کیا ہے؟ ہرگز نہیں! مَیں تو خود اسرائیلی ہوں۔ ابراہیم میرا بھی باپ ہے، اور مَیں بن یمین کے قبیلے کا ہوں۔
¶ میرے عزیز بھائیو، سنیں! کیا اللہ نے اُنہیں نہیں چنا جو دنیا کی نظر میں غریب ہیں تاکہ وہ ایمان میں دولت مند ہو جائیں؟ یہی لوگ وہ بادشاہی میراث میں پائیں گے جس کا وعدہ اللہ نے اُن سے کیا ہے جو اُسے پیار کرتے ہیں۔