¶ دشمن نے ڈینگ مار کر کہا، ’مَیں اُن کا پیچھا کر کے اُنہیں پکڑ لوں گا، مَیں اُن کا لُوٹا ہوا مال تقسیم کروں گا۔ میری لالچی جان اُن سے سیر ہو جائے گی، مَیں اپنی تلوار کھینچ کر اُنہیں ہلاک کروں گا۔‘
TSK
TSK · یسعیاہ 51:13
Treasury of Scripture Knowledge references in کتابِ مقدّس.
¶ اُس کی بیوی زرِش اور باقی عزیزوں نے مشورہ دیا، ”سولی بنوائیں جس کی اونچائی 75 فٹ ہو۔ پھر کل صبح سویرے بادشاہ کے پاس جا کر گزارش کریں کہ مردکی کو اُس سے لٹکایا جائے۔ اِس کے بعد آپ تسلی سے بادشاہ کے ساتھ جا کر ضیافت کے مزے لے سکتے ہیں۔“ یہ منصوبہ ہامان کو اچھا لگا، اور اُس نے سولی تیار کروائی۔
¶ اللہ ہی آسمان کو خیمے کی طرح تان دیتا، وہی سمندری اژدہے کی پیٹھ کو پاؤں تلے کچل دیتا ہے۔
تو کیا آپ اللہ کے ساتھ مل کر آسمان کو ٹھونک ٹھونک کر پیتل کے آئینے کی مانند سخت بنا سکتے ہیں؟ ہرگز نہیں!
¶ مَیں نے ایک بےدین اور ظالم آدمی کو دیکھا جو پھلتے پھولتے دیودار کے درخت کی طرح آسمان سے باتیں کرنے لگا۔
¶ تُو نے قدیم زمانے میں زمین کی بنیاد رکھی، اور تیرے ہی ہاتھوں نے آسمانوں کو بنایا۔
¶ لیکن جلد ہی وہ اُس کے کام بھول گئے۔ وہ اُس کی مرضی کا انتظار کرنے کے لئے تیار نہ تھے۔
”ہر بات کو سازش مت سمجھنا جو یہ قوم سازش سمجھتی ہے۔ جس سے یہ لوگ ڈرتے ہیں اُس سے نہ ڈرنا، نہ دہشت کھانا
¶ جو بھی تجھ پر نظر ڈالے گا وہ غور سے دیکھ کر پوچھے گا، ’کیا یہی وہ آدمی ہے جس نے زمین کو ہلا دیا، جس کے سامنے دیگر ممالک کانپ اُٹھے؟
افسوس، تُو اپنی نجات کے خدا کو بھول گیا ہے۔ تجھے وہ چٹان یاد نہ رہی جس پر تُو پناہ لے سکتا ہے۔ چنانچہ اپنے پیارے دیوتاؤں کے باغ لگاتا جا، اور اُن میں پردیسی انگور کی قلمیں لگاتا جا۔
¶ اُسی رات رب کا فرشتہ نکل آیا اور اسوری لشکرگاہ میں سے گزر کر 1,85,000 فوجیوں کو مار ڈالا۔ جب لوگ صبح سویرے اُٹھے تو چاروں طرف لاشیں ہی لاشیں نظر آئیں۔
¶ رب خدا نے آسمان کو خلق کر کے خیمے کی طرح زمین کے اوپر تان لیا۔ اُسی نے زمین کو اور جو کچھ اُس میں سے پھوٹ نکلتا ہے تشکیل دیا، اور اُسی نے رُوئے زمین پر بسنے اور چلنے والوں میں دم پھونک کر جان ڈالی۔ اب یہی خدا اپنے خادم سے فرماتا ہے،
¶ رب تیرا چھڑانے والا جس نے تجھے ماں کے پیٹ سے ہی تشکیل دیا فرماتا ہے، ”مَیں رب ہوں۔ مَیں ہی سب کچھ وجود میں لایا، مَیں نے اکیلے ہی آسمان کو زمین کے اوپر تان لیا اور زمین کو بچھایا۔
میرے ہی ہاتھ نے زمین کی بنیاد رکھی، میرے ہی دہنے ہاتھ نے آسمان کو خیمے کی طرح تان لیا۔ جب مَیں آواز دیتا ہوں تو سب مل کر کھڑے ہو جاتے ہیں۔
کیا کنواری کبھی اپنے زیورات کو بھول سکتی ہے، یا دُلھن اپنا عروسی لباس؟ ہرگز نہیں! لیکن میری قوم بےشمار دنوں سے مجھے بھول گئی ہے۔
¶ دیکھو، اللہ ہی نے اپنی قدرت سے زمین کو خلق کیا، اُسی نے اپنی حکمت سے دنیا کی بنیاد رکھی، اور اُسی نے اپنی سمجھ کے مطابق آسمان کو خیمے کی طرح تان لیا۔
مَیں تمہیں ایک آخری موقع دیتا ہوں۔ ساز دوبارہ بجیں گے تو تمہیں منہ کے بل ہو کر میرے بنوائے ہوئے مجسمے کو سجدہ کرنا ہے۔ اگر تم ایسا نہ کرو تو تمہیں سیدھا بھڑکتی بھٹی میں پھینکا جائے گا۔ تب کون سا خدا تمہیں میرے ہاتھ سے بچا سکے گا؟“
تجھے انسانی سنگت سے نکال کر بھگایا جائے گا، اور تُو جنگلی جانوروں کے ساتھ رہ کر بَیل کی طرح گھاس چَرے گا۔ سات سال یوں ہی گزر جائیں گے۔ پھر آخرکار تُو اقرار کرے گا کہ اللہ تعالیٰ کا انسانی سلطنتوں پر اختیار ہے، وہ اپنی ہی مرضی سے لوگوں کو اُن پر مقرر کرتا ہے۔“
وہ ابھی یہ کہہ رہے تھے کہ رب کے فرشتے نے ہیرودیس کو مارا، کیونکہ اُس نے لوگوں کی پرستش قبول کر کے اللہ کو جلال نہیں دیا تھا۔ وہ بیمار ہوا اور کیڑوں نے اُس کے جسم کو کھا کھا کر ختم کر دیا۔ اِسی حالت میں وہ مر گیا۔
¶ اے موت، تیری فتح کہاں رہی؟ اے موت، تیرا ڈنک کہاں رہا؟“
اگر اُن کے ذہن میں وہ ملک ہوتا جس سے وہ نکل آئے تھے تو وہ اب بھی واپس جا سکتے تھے۔
اُنہوں نے زمین پر پھیل کر مُقدّسین کی لشکرگاہ کو گھیر لیا، یعنی اُس شہر کو جسے اللہ پیار کرتا ہے۔ لیکن آگ نے آسمان سے نازل ہو کر اُنہیں ہڑپ کر لیا۔