تُو ابھی تک اپنے آپ کو سرفراز کر کے میری قوم کے خلاف ہے اور اُنہیں جانے نہیں دیتا۔
TSK
TSK · یسعیاہ 57:4
Treasury of Scripture Knowledge references in کتابِ مقدّس.
اپنے ساتھیوں سے مل کر تُو نے ہارون کی نہیں بلکہ رب کی مخالفت کی ہے۔ کیونکہ ہارون کون ہے کہ تم اُس کے خلاف بڑبڑاؤ؟“
اِس قسم کی باتیں کرتے کرتے اُن کی خوشی کی انتہا نہ رہی۔ تب وہ چلّانے لگے، ”سمسون کو بُلاؤ تاکہ وہ ہمارے دلوں کو بہلائے۔“ چنانچہ اُسے اُن کی تفریح کے لئے جیل سے لایا گیا اور دو ستونوں کے درمیان کھڑا کر دیا گیا۔
اللہ کا غضب مجھے پھاڑ رہا ہے، وہ میرا دشمن اور میرا مخالف بن گیا ہے جو میرے خلاف دانت پیس پیس کر مجھے اپنی آنکھوں سے چھید رہا ہے۔
¶ میرے خلاف اُنہوں نے اپنے منہ کھول دیئے ہیں، اُس دہاڑتے ہوئے شیرببر کی طرح جو شکار کو پھاڑنے کے جوش میں آ گیا ہے۔
¶ وہ منہ پھاڑ کر کہتے ہیں، ”لو جی، ہم نے اپنی آنکھوں سے اُس کی حرکتیں دیکھی ہیں!“
¶ اے گناہ گار قوم، تجھ پر افسوس! اے سنگین قصور میں پھنسی ہوئی اُمّت، تجھ پر افسوس! شریر نسل، بدچلن بچے! اُنہوں نے رب کو ترک کر دیا ہے۔ ہاں، اُنہوں نے اسرائیل کے قدوس کو حقیر جان کر رد کیا، اپنا منہ اُس سے پھیر لیا ہے۔
¶ رب فرماتا ہے، ”اے ضدی بچو، تم پر افسوس! کیونکہ تم میرے بغیر منصوبے باندھتے اور میرے روح کے بغیر معاہدے کر لیتے ہو۔ گناہوں میں اضافہ کرتے کرتے
¶ کیا تُو نہیں جانتا کہ کس کو گالیاں دیں اور کس کی اہانت کی ہے؟ کیا تجھے نہیں معلوم کہ تُو نے کس کے خلاف آواز بلند کی ہے؟ جس کی طرف تُو غرور کی نظر سے دیکھ رہا ہے وہ اسرائیل کا قدوس ہے!
کیونکہ جب بھی مَیں اپنا منہ کھولتا ہوں تو مجھے چلّا کر ’ظلم و تباہی‘ کا نعرہ لگانا پڑتا ہے۔ چنانچہ مَیں رب کے کلام کے باعث پورا دن گالیوں اور مذاق کا نشانہ بنا رہتا ہوں۔
جن لوگوں کے پاس مَیں تجھے بھیج رہا ہوں وہ بےشرم اور ضدی ہیں۔ اُنہیں وہ کچھ سنا دے جو رب قادرِ مطلق فرماتا ہے۔
کھیت دنیا ہے جبکہ اچھے بیج سے مراد بادشاہی کے فرزند ہیں۔ خود رَو پودے ابلیس کے فرزند ہیں
¶ جو وہاں سے گزرے اُنہوں نے کفر بک کر اُس کی تذلیل کی اور سر ہلا ہلا کر اپنی حقارت کا اظہار کیا۔
وہ زمین پر گر پڑا تو ایک آواز سنائی دی، ”ساؤل، ساؤل، تُو مجھے کیوں ستاتا ہے؟“
¶ کوئی آپ کو بےمعنی الفاظ سے دھوکا نہ دے۔ ایسی ہی باتوں کی وجہ سے اللہ کا غضب اُن پر جو نافرمان ہیں نازل ہوتا ہے۔
یوں جو نقصان اُنہوں نے دوسروں کو پہنچایا وہی اُنہیں خود بھگتنا پڑے گا۔ اُن کے نزدیک لطف اُٹھانے سے مراد یہ ہے کہ دن کے وقت کھل کر عیش کریں۔ وہ داغ اور دھبے ہیں جو آپ کی ضیافتوں میں شریک ہو کر اپنی دغابازیوں کی رنگ رلیاں مناتے ہیں۔