¶ یروشلم کے بادشاہ ادونی صدق کو خبر ملی کہ یشوع نے عَی پر یوں قبضہ کر کے اُسے مکمل طور پر تباہ کر دیا ہے جس طرح اُس نے یریحو اور اُس کے بادشاہ کے ساتھ بھی کیا تھا۔ اُسے یہ اطلاع بھی دی گئی کہ جِبعون کے باشندے اسرائیلیوں کے ساتھ صلح کا معاہدہ کر کے اُن کے درمیان رہ رہے ہیں۔
TSK
TSK · یرمیاہ 21:2
Treasury of Scripture Knowledge references in کتابِ مقدّس.
اُس سے دریافت کیا کہ ہم کیا کریں۔ (اُس وقت اللہ کے عہد کا صندوق بیت ایل میں تھا
¶ اُنہوں نے رب سے دریافت کیا، ”کیا ساؤل یہاں پہنچ چکا ہے؟“ رب نے جواب دیا، ”وہ سامان کے بیچ میں چھپ گیا ہے۔“
¶ داؤد نے جواب دیا، ”آپ تلوار، نیزہ اور شمشیر لے کر میرا مقابلہ کرنے آئے ہیں، لیکن مَیں رب الافواج کا نام لے کر آتا ہوں، اُسی کا نام جو اسرائیلی فوج کا خدا ہے۔ کیونکہ آپ نے اُسی کو چیلنج کیا ہے۔
¶ سموایل بولا، ”تُو نے مجھے پاتال سے بُلوا کر کیوں مضطرب کر دیا ہے؟“ ساؤل نے جواب دیا، ”مَیں بڑی مصیبت میں ہوں۔ فلستی مجھ سے لڑ رہے ہیں، اور اللہ نے مجھے ترک کر دیا ہے۔ نہ وہ نبیوں کی معرفت مجھے ہدایت دیتا ہے، نہ خواب کے ذریعے۔ اِس لئے مَیں نے آپ کو بُلوایا ہے تاکہ آپ مجھے بتائیں کہ مَیں کیا کروں۔“
اُس وقت اسرائیل کے بادشاہ نے اپنے افسروں سے بات کی، ”دیکھیں، رامات جِلعاد ہمارا ہی شہر ہے۔ تو پھر ہم کیوں کچھ نہیں کر رہے؟ ہمیں اُسے شام کے بادشاہ کے قبضے سے چھڑوانا چاہئے۔“
تب رب کے فرشتے نے الیاس تِشبی کو حکم دیا، ”اُٹھ، سامریہ کے بادشاہ کے قاصدوں سے ملنے جا۔ اُن سے پوچھ، ’آپ دریافت کرنے کے لئے عقرون کے دیوتا بعل زبوب کے پاس کیوں جا رہے ہیں؟ کیا اسرائیل میں کوئی خدا نہیں ہے؟
”جا کر میری اور قوم بلکہ تمام یہوداہ کی خاطر رب سے اِس کتاب میں درج باتوں کے بارے میں دریافت کریں۔ رب کا جو غضب ہم پر نازل ہونے والا ہے وہ نہایت سخت ہے، کیونکہ ہمارے باپ دادا نہ کتاب کے فرمانوں کے تابع رہے، نہ اُن ہدایات کے مطابق زندگی گزاری ہے جو اُس میں ہمارے لئے درج کی گئی ہیں۔“
¶ ایک دن ایتھوپیا کے بادشاہ زارح نے یہوداہ پر حملہ کیا۔ اُس کے بےشمار فوجی اور 300 رتھ تھے۔ بڑھتے بڑھتے وہ مریسہ تک پہنچ گیا۔
جواب میں رب نے اسوریوں کی لشکرگاہ میں ایک فرشتہ بھیجا جس نے تمام بہترین فوجیوں کو افسروں اور کمانڈروں سمیت موت کے گھاٹ اُتار دیا۔ چنانچہ سنحیرب شرمندہ ہو کر اپنے ملک لوٹ گیا۔ وہاں ایک دن جب وہ اپنے دیوتا کے مندر میں داخل ہوا تو اُس کے کچھ بیٹوں نے اُسے تلوار سے قتل کر دیا۔
¶ آؤ، رب کے عظیم کاموں پر نظر ڈالو! اُسی نے زمین پر ہول ناک تباہی نازل کی ہے۔
¶ جو معجزے اُس نے کئے اُنہیں یاد کرو۔ اُس کے الٰہی نشان اور اُس کے منہ کے فیصلے دہراتے رہو۔
¶ یقیناً رب کا بازو چھوٹا نہیں کہ وہ بچا نہ سکے، اُس کا کان بہرا نہیں کہ سن نہ سکے۔
دشمن مٹی کے پُشتے بنا کر فصیل کے قریب پہنچ چکا ہے۔ ہم تلوار، کال اور مہلک بیماریوں سے اِتنے کمزور ہو گئے ہیں کہ جب بابل کی فوج شہر پر حملہ کرے گی تو وہ اُس کے قبضے میں آئے گا۔ جو کچھ بھی تُو نے فرمایا تھا وہ پیش آیا ہے۔ تُو خود اِس کا گواہ ہے۔
¶ ایک دن صِدقیاہ بادشاہ نے یہوکل بن سلمیاہ اور امام صفنیاہ بن معسیاہ کو یرمیاہ کے پاس بھیجا تاکہ وہ گزارش کریں، ”مہربانی کر کے رب ہمارے خدا سے ہماری شفاعت کریں۔“
¶ ایک دن صِدقیاہ بادشاہ نے یرمیاہ کو رب کے گھر کے تیسرے دروازے کے پاس بُلا کر اُس سے کہا، ”مَیں آپ سے ایک بات دریافت کرنا چاہتا ہوں۔ مجھے اِس کا صاف جواب دیں، کوئی بھی بات مجھ سے مت چھپائیں۔“
¶ یرمیاہ نے جواب دیا، ”ٹھیک ہے، مَیں دعا میں ضرور رب آپ کے خدا کو آپ کی گزارش پیش کروں گا۔ اور جو بھی جواب رب دے وہ مَیں لفظ بہ لفظ آپ کو بتا دوں گا۔ مَیں آپ کو کسی بھی بات سے محروم نہیں رکھوں گا۔“
¶ اِس لئے شاہِ بابل نبوکدنضر تمام فوج اپنے ساتھ لے کر دوبارہ یروشلم پہنچا تاکہ اُس پر حملہ کرے۔ صِدقیاہ کی حکومت کے نویں سال میں بابل کی فوج یروشلم کا محاصرہ کرنے لگی۔ یہ کام دسویں مہینے کے دسویں دن شروع ہوا۔ پورے شہر کے ارد گرد بادشاہ نے پُشتے بنوائے۔
¶ یہوداہ کے بادشاہ یہویاکین کی جلاوطنی کے ساتویں سال میں اسرائیلی قوم کے کچھ بزرگ میرے پاس آئے تاکہ رب سے کچھ دریافت کریں۔ پانچویں مہینے کا دسواں دن تھا۔ وہ میرے سامنے بیٹھ گئے۔