¶ پھر رب خدا عورت سے مخاطب ہوا اور کہا، ”جب تُو اُمید سے ہو گی تو مَیں تیری تکلیف کو بہت بڑھاؤں گا۔ جب تیرے بچے ہوں گے تو تُو شدید درد کا شکار ہو گی۔ تُو اپنے شوہر کی تمنا کرے گی لیکن وہ تجھ پر حکومت کرے گا۔“
TSK
TSK · یوحنا 16:21
Treasury of Scripture Knowledge references in کتابِ مقدّس.
وہ حاملہ ہوئی اور ایک بیٹا پیدا ہوا۔ اُس نے کہا، ”مجھے بیٹا عطا کرنے سے اللہ نے میری عزت بحال کر دی ہے۔
تُو اپنا دُکھ درد بھول جائے گا، اور وہ صرف گزرے سیلاب کی طرح یاد رہے گا۔
دہشت اُن پر چھا جائے گی، اور وہ جاں کنی اور دردِ زہ کی سی گرفت میں آ کر جنم دینے والی عورت کی طرح تڑپیں گے۔ ایک دوسرے کو ڈر کے مارے گھور گھور کر اُن کے چہرے آگ کی طرح تمتما رہے ہوں گے۔
کیا مرد بچے جنم دے سکتا ہے؟ تو پھر تمام مرد کیوں اپنے ہاتھ کمر پر رکھ کر دردِ زہ میں مبتلا عورتوں کی طرح تڑپ رہے ہیں؟ ہر ایک کا رنگ فق پڑ گیا ہے۔
¶ اے صیون بیٹی، جنم دینے والی عورت کی طرح تڑپتی اور چیختی جا! کیونکہ اب تجھے شہر سے نکل کر کھلے میدان میں رہنا پڑے گا، آخر میں تُو بابل تک پہنچے گی۔ لیکن وہاں رب تجھے بچائے گا، وہاں وہ عوضانہ دے کر تجھے دشمن کے ہاتھ سے چھڑائے گا۔
کیونکہ کلامِ مُقدّس میں لکھا ہے، ”خوش ہو جا، تُو جو بےاولاد ہے، جو بچے کو جنم ہی نہیں دے سکتی۔ بلند آواز سے شادیانہ بجا، تُو جسے پیدائش کا درد نہ ہوا۔ کیونکہ اب ترک کی ہوئی عورت کے بچے شادی شدہ عورت کے بچوں سے زیادہ ہیں۔“
اُس کا پاؤں بھاری تھا، اور جنم دینے کے شدید درد میں مبتلا ہونے کی وجہ سے وہ چلّا رہی تھی۔