اِن سات دنوں کے دوران رب کو جلنے والی قربانیاں پیش کرنا۔ آٹھویں دن مُقدّس اجتماع ہو۔ رب کو جلنے والی قربانی پیش کرو۔ اِس خاص اجتماع کے دن بھی کام نہیں کرنا ہے۔
TSK
TSK · یوحنا 7:37
Treasury of Scripture Knowledge references in کتابِ مقدّس.
عید کے آٹھویں دن کام نہ کرنا بلکہ مُقدّس اجتماع کے لئے اکٹھے ہونا۔
عید کے ہر دن عزرا نے اللہ کی شریعت کی تلاوت کی۔ سات دن اسرائیلیوں نے عید منائی، اور آٹھویں دن سب لوگ اجتماع کے لئے اکٹھے ہوئے، بالکل اُن ہدایات کے مطابق جو شریعت میں دی گئی ہیں۔
¶ میری جان خدا، ہاں زندہ خدا کی پیاسی ہے۔ مَیں کب جا کر اللہ کا چہرہ دیکھوں گا؟
¶ مَیں اپنے ہاتھ تیری طرف اُٹھاتا ہوں، میری جان خشک زمین کی طرح تیری پیاسی ہے۔ (سِلاہ)
¶ سنو! کیا حکمت آواز نہیں دیتی؟ ہاں، سمجھ اونچی آواز سے اعلان کرتی ہے۔
اب اُس نے اپنی نوکرانیوں کو بھیجا ہے، اور خود بھی لوگوں کو شہر کی بلندیوں سے ضیافت کرنے کی دعوت دیتی ہے،
¶ تم شادمانی سے نجات کے چشموں سے پانی بھرو گے۔
¶ ایک آواز نے کہا، ”زور سے آواز دے!“ مَیں نے پوچھا، ”مَیں کیا کہوں؟“ ”یہ کہ تمام انسان گھاس ہی ہیں، اُن کی تمام شان و شوکت جنگلی پھول کی مانند ہے۔
کیونکہ مَیں پیاسی زمین پر پانی ڈالوں گا اور خشکی پر ندیاں بہنے دوں گا۔ مَیں اپنا روح تیری اولاد پر نازل کروں گا، اپنی برکت تیرے بچوں کو بخشوں گا۔
کان لگا کر میرے پاس آؤ! سنو تو جیتے رہو گے۔ مَیں تمہارے ساتھ ابدی عہد باندھوں گا، تمہیں اُن اَن مٹ مہربانیوں سے نوازوں گا جن کا وعدہ داؤد سے کیا تھا۔
”جا، زور سے یروشلم کے کان میں پکار کہ رب فرماتا ہے، ’مجھے تیری جوانی کی وفاداری خوب یاد ہے۔ جب تیری شادی قریب آئی تو تُو مجھے کتنا پیار کرتی تھی، یہاں تک کہ تُو ریگستان میں بھی جہاں کھیتی باڑی ناممکن تھی میرے پیچھے پیچھے چلتی رہی۔
¶ قادرِ مطلق فرماتا ہے، ”ایسے دن آنے والے ہیں جب مَیں ملک میں کال بھیجوں گا۔ لیکن لوگ نہ روٹی اور نہ پانی سے بلکہ اللہ کا کلام سننے سے محروم رہیں گے۔
رب الافواج خود اسرائیلیوں کو پناہ دے گا۔ تب وہ دشمن کو کھا کھا کر اُس کے پھینکے ہوئے پتھروں کو خاک میں ملا دیں گے اور خون کو مَے کی طرح پی پی کر شور مچائیں گے۔ وہ قربانی کے خون سے بھرے کٹورے کی طرح بھر جائیں گے، قربان گاہ کے کونوں جیسے خون آلودہ ہو جائیں گے۔
¶ اے تھکے ماندے اور بوجھ تلے دبے ہوئے لوگو، سب میرے پاس آؤ! مَیں تم کو آرام دوں گا۔
¶ عیسیٰ نے جواب دیا، ”اگر تُو اُس بخشش سے واقف ہوتی جو اللہ تجھ کو دینا چاہتا ہے اور تُو اُسے جانتی جو تجھ سے پانی مانگ رہا ہے تو تُو اُس سے مانگتی اور وہ تجھے زندگی کا پانی دیتا۔“
توبھی تم زندگی پانے کے لئے میرے پاس آنا نہیں چاہتے۔
جتنے بھی باپ نے مجھے دیئے ہیں وہ میرے پاس آئیں گے اور جو بھی میرے پاس آئے گا اُسے مَیں ہرگز نکال نہ دوں گا۔
¶ عیسیٰ بیت المُقدّس میں تعلیم دے رہا تھا۔ اب وہ پکار اُٹھا، ”تم مجھے جانتے ہو اور یہ بھی جانتے ہو کہ مَیں کہاں سے ہوں۔ لیکن مَیں اپنی طرف سے نہیں آیا۔ جس نے مجھے بھیجا ہے وہ سچا ہے اور اُسے تم نہیں جانتے۔
اور سب نے ایک ہی روحانی پانی پیا۔ کیونکہ مسیح روحانی چٹان کی صورت میں اُن کے ساتھ ساتھ چلتا رہا اور وہی اُن سب کو پانی پلاتا رہا۔
اِسی طرح اُس نے کھانے کے بعد پیالہ لے کر کہا، ”مَے کا یہ پیالہ وہ نیا عہد ہے جو میرے خون کے ذریعے قائم کیا جاتا ہے۔ جب کبھی اِسے پیو تو مجھے یاد کرنے کے لئے پیو۔“
¶ شراب میں متوالے نہ ہو جائیں، کیونکہ اِس کا انجام عیاشی ہے۔ اِس کے بجائے روح القدس سے معمور ہوتے جائیں۔
¶ پھر فرشتے نے مجھے زندگی کے پانی کا دریا دکھایا۔ وہ بلور جیسا صاف شفاف تھا اور اللہ اور لیلے کے تخت سے نکل کر