تب ہارون کی بہن مریم جو نبیہ تھی نے دف لیا، اور باقی تمام عورتیں بھی دف لے کر اُس کے پیچھے ہو لیں۔ سب گانے اور ناچنے لگیں۔ مریم نے یہ گا کر اُن کی راہنمائی کی،
TSK
TSK · قُضاۃ 11:34
Treasury of Scripture Knowledge references in کتابِ مقدّس.
¶ فتح کے دن دبورہ نے برق بن ابی نوعم کے ساتھ یہ گیت گایا،
¶ یہ سن کر اِفتاح جِلعاد کے بزرگوں کے ساتھ مِصفاہ گیا۔ وہاں لوگوں نے اُسے اپنا سردار اور فوج کا کمانڈر بنا لیا۔ مِصفاہ میں اُس نے رب کے حضور وہ تمام باتیں دہرائیں جن کا فیصلہ اُس نے بزرگوں کے ساتھ کیا تھا۔
جب لڑکیاں لوک ناچ کے لئے سَیلا سے نکلیں گی تو پھر باغوں سے نکل کر اُن پر جھپٹ پڑنا۔ ہر آدمی ایک لڑکی کو پکڑ کر اُسے اپنے گھر لے جائے۔
¶ آگے گلوکار، پھر ساز بجانے والے چل رہے ہیں۔ اُن کے آس پاس کنواریاں دف بجاتے ہوئے پھر رہی ہیں۔
¶ دف اور لوک ناچ سے اُس کی حمد کرو۔ تاردار ساز اور بانسری بجا کر اُس کی ستائش کرو۔
پھر کنواریاں خوشی کے مارے لوک ناچ ناچیں گی، جوان اور بزرگ آدمی بھی اُس میں حصہ لیں گے۔ یوں مَیں اُن کا ماتم خوشی میں بدل دوں گا، مَیں اُن کے دلوں سے غم نکال کر اُنہیں اپنی تسلی اور شادمانی سے بھر دوں گا۔“
جب وہ شہر کے دروازے کے قریب پہنچا تو ایک جنازہ نکلا۔ جو نوجوان فوت ہوا تھا اُس کی ماں بیوہ تھی اور وہ اُس کا اکلوتا بیٹا تھا۔ ماں کے ساتھ شہر کے بہت سے لوگ چل رہے تھے۔
ہجوم میں سے ایک آدمی نے اونچی آواز سے کہا، ”اُستاد، مہربانی کر کے میرے بیٹے پر نظر کریں۔ وہ میرا اکلوتا بیٹا ہے۔