یہ اُس کی زندگی کا بیان ہے۔ نوح راست باز تھا۔ اُس زمانے کے لوگوں میں صرف وہی بےقصور تھا۔ وہ اللہ کے ساتھ ساتھ چلتا تھا۔
TSK
TSK · لوقا 1:6
Treasury of Scripture Knowledge references in کتابِ مقدّس.
¶ جب ابرام 99 سال کا تھا تو رب اُس پر ظاہر ہوا۔ اُس نے کہا، ”مَیں اللہ قادرِ مطلق ہوں۔ میرے حضور چلتا رہ اور بےالزام ہو۔
”اے رب، یاد کر کہ مَیں وفاداری اور خلوص دلی سے تیرے سامنے چلتا رہا ہوں، کہ مَیں وہ کچھ کرتا آیا ہوں جو تجھے پسند ہے۔“ پھر وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا۔
¶ ملکِ عُوض میں ایک بےالزام آدمی رہتا تھا جس کا نام ایوب تھا۔ وہ سیدھی راہ پر چلتا، اللہ کا خوف مانتا اور ہر بُرائی سے دُور رہتا تھا۔
¶ ”مَیں خوب جانتا ہوں کہ تیری بات درست ہے۔ لیکن اللہ کے حضور انسان کس طرح راست باز ٹھہر سکتا ہے؟
اُس نے اُن سے کہا، ”تم ہی وہ ہو جو اپنے آپ کو لوگوں کے سامنے راست باز قرار دیتے ہو، لیکن اللہ تمہارے دلوں سے واقف ہے۔ کیونکہ لوگ جس چیز کی بہت قدر کرتے ہیں وہ اللہ کے نزدیک مکروہ ہے۔
اِس لئے میری پوری کوشش یہی ہوتی ہے کہ ہر وقت میرا ضمیر اللہ اور انسان کے سامنے صاف ہو۔
¶ شاباش کہ آپ ہر طرح سے مجھے یاد رکھتے ہیں۔ آپ نے روایات کو یوں محفوظ رکھا ہے جس طرح مَیں نے اُنہیں آپ کے سپرد کیا تھا۔
تاکہ آپ بےالزام اور پاک ہو کر اللہ کے بےداغ فرزند ثابت ہو جائیں، ایسے لوگ جو ایک ٹیڑھی اور اُلٹی نسل کے درمیان ہی آسمان کے ستاروں کی طرح چمکتے دمکتے
لیکن اب اُس نے مسیح کے انسانی بدن کی موت سے آپ کے ساتھ صلح کر لی ہے تاکہ وہ آپ کو مُقدّس، بےداغ اور بےالزام حالت میں اپنے حضور کھڑا کرے۔
¶ کیونکہ اللہ کا نجات بخش فضل تمام انسانوں پر ظاہر ہوا ہے۔
¶ چنانچہ عزیزو، چونکہ آپ اِس انتظار میں ہیں اِس لئے پوری لگن کے ساتھ کوشاں رہیں کہ آپ اللہ کے نزدیک بےداغ اور بےالزام ٹھہریں اور آپ کی اُس کے ساتھ صلح ہو۔
اگر آپ جانتے ہیں کہ مسیح راست باز ہے تو آپ یہ بھی جانتے ہیں کہ جو بھی راست کام کرتا ہے وہ اللہ سے پیدا ہو کر اُس کا فرزند بن گیا ہے۔