¶ رب نے دیکھا کہ انسان نہایت بگڑ گیا ہے، کہ اُس کے تمام خیالات لگاتار بُرائی کی طرف مائل رہتے ہیں۔
TSK
TSK · مرقس 7:21
Treasury of Scripture Knowledge references in کتابِ مقدّس.
¶ کون ناپاک چیز کو پاک صاف کر سکتا ہے؟ کوئی نہیں!
تو پھر انسان اللہ کے سامنے کس طرح راست باز ٹھہر سکتا ہے؟ جو عورت سے پیدا ہوا وہ کس طرح پاک صاف ثابت ہو سکتا ہے؟
¶ افسوس، سب صحیح راہ سے بھٹک گئے، سب کے سب بگڑ گئے ہیں۔ کوئی نہیں جو بھلائی کرتا ہو، ایک بھی نہیں۔
¶ افسوس، سب صحیح راہ سے بھٹک گئے، سب کے سب بگڑ گئے ہیں۔ کوئی نہیں جو بھلائی کرتا ہو، ایک بھی نہیں۔
تمام چیزوں سے پہلے اپنے دل کی حفاظت کر، کیونکہ یہی زندگی کا سرچشمہ ہے۔
جہاں بھی غلط کام کرنے کا موقع ملے وہاں اُن کے پاؤں بھاگ کر پہنچ جاتے ہیں۔ وہ بےقصور کو قتل کرنے کے لئے تیار رہتے ہیں۔ اُن کے خیالات شریر ہی ہیں، اپنے پیچھے وہ تباہی و بربادی چھوڑ جاتے ہیں۔
¶ دل حد سے زیادہ فریب دہ ہے، اور اُس کا علاج ناممکن ہے۔ کون اُس کا صحیح علم رکھتا ہے؟
¶ عیسیٰ نے جان لیا کہ یہ کیا سوچ رہے ہیں، اِس لئے اُس نے اُن سے پوچھا،
¶ شریعت کے عالِمو اور فریسیو، تم پر افسوس! ریاکارو! تم باہر سے ہر پیالے اور برتن کی صفائی کرتے ہو، لیکن اندر سے وہ لُوٹ مار اور عیش پرستی سے بھرے ہوتے ہیں۔
کیا یہ زمین فروخت کرنے سے پہلے آپ کی نہیں تھی؟ اور اُسے بیچ کر کیا آپ پیسے جیسے چاہتے استعمال نہیں کر سکتے تھے؟ آپ نے کیوں اپنے دل میں یہ ٹھان لیا؟ آپ نے ہمیں نہیں بلکہ اللہ کو دھوکا دیا ہے۔“
کیونکہ جب ہم اپنی پرانی فطرت کے تحت زندگی گزارتے تھے تو شریعت ہماری گناہ آلودہ رغبتوں کو اُکساتی تھی۔ پھر یہی رغبتیں ہمارے اعضا پر اثرانداز ہوتی تھیں اور نتیجے میں ہم ایسا پھل لاتے تھے جس کا انجام موت ہے۔
پرانی فطرت کی سوچ اللہ سے دشمنی رکھتی ہے۔ یہ اپنے آپ کو اللہ کی شریعت کے تابع نہیں رکھتی، نہ ہی ایسا کر سکتی ہے۔
کیونکہ ایک وقت تھا جب ہم بھی ناسمجھ، نافرمان اور صحیح راہ سے بھٹکے ہوئے تھے۔ اُس وقت ہم کئی طرح کی شہوتوں اور غلط خواہشوں کی غلامی میں تھے۔ ہم بُرے کاموں اور حسد کرنے میں زندگی گزارتے تھے۔ دوسرے ہم سے نفرت کرتے تھے اور ہم بھی اُن سے نفرت کرتے تھے۔
کیا آپ ایسا کرنے سے مجرمانہ خیالات والے منصف نہیں ثابت ہوئے؟ کیونکہ آپ نے لوگوں میں ناروا فرق کیا ہے۔
نتیجے میں وہ زمین پر اپنی باقی زندگی انسان کی بُری خواہشات پوری کرنے میں نہیں گزارے گا بلکہ اللہ کی مرضی پوری کرنے میں۔