TSK

TSK · متی 5:22

Treasury of Scripture Knowledge references in کتابِ مقدّس.

واپس گزرنے پر

مگر قابیل کا نذرانہ منظور نہ ہوا۔ یہ دیکھ کر قابیل بڑے غصے میں آ گیا، اور اُس کا منہ بگڑ گیا۔

اُس کے بھائیوں نے کہا، ”اچھا، تُو بادشاہ بن کر ہم پر حکومت کرے گا؟“ اُس کے خوابوں اور اُس کی باتوں کے سبب سے اُن کی اُس سے نفرت مزید بڑھ گئی۔

آئندہ مَیں اُن میں سے تجھ جیسا نبی کھڑا کروں گا۔ مَیں اپنے الفاظ اُس کے منہ میں ڈال دوں گا، اور وہ میری ہر بات اُن تک پہنچائے گا۔

¶ ساؤل بڑے غصے میں آ گیا، کیونکہ عورتوں کا گیت اُسے نہایت بُرا لگا۔ اُس نے سوچا، ”اُن کی نظر میں داؤد نے دس ہزار ہلاک کئے جبکہ مَیں نے صرف ہزار۔ اب صرف یہ بات رہ گئی ہے کہ اُسے بادشاہ مقرر کیا جائے۔“

جب پہنچے تو ساؤل بولا، ”اخی طوب کے بیٹے، سنیں۔“ اخی مَلِک نے جواب دیا، ”جی میرے آقا، حکم۔“

لعنت کرتے کرتے سِمعی چیخ رہا تھا، ”چل، دفع ہو جا! قاتل! بدمعاش!

یہ سن کر آسا غصے سے لال پیلا ہو گیا۔ آپے سے باہر ہو کر اُس نے حکم دیا کہ نبی کو گرفتار کر کے اُس کے پاؤں کاٹھ میں ٹھونکو۔ اُس وقت سے آسا اپنی قوم کے کئی لوگوں پر ظلم کرنے لگا۔

¶ جب ہامان نے خود دیکھا کہ مردکی میرے سامنے منہ کے بل نہیں جھکتا تو وہ آگ بگولا ہو گیا۔

¶ داؤد کا زبور۔ موسیقی کے راہنما کے لئے۔ احمق دل میں کہتا ہے، ”اللہ ہے ہی نہیں!“ ایسے لوگ بدچلن ہیں، اُن کی حرکتیں قابلِ گھن ہیں۔ ایک بھی نہیں ہے جو اچھا کام کرے۔

¶ اُنہیں مجھ پر بغلیں بجانے نہ دے جو بےسبب میرے دشمن ہیں۔ اُنہیں مجھ پر ناک بھوں چڑھانے نہ دے جو بلاوجہ مجھ سے کینہ رکھتے ہیں۔

¶ کیونکہ ہر ایک دیکھ سکتا ہے کہ دانش مند بھی وفات پاتے اور احمق اور ناسمجھ بھی مل کر ہلاک ہو جاتے ہیں۔ سب کو اپنی دولت دوسروں کے لئے چھوڑنی پڑتی ہے۔

¶ نادان یہ نہیں جانتا، احمق کو اِس کی سمجھ نہیں آتی۔

¶ دانش مند ڈرتے ڈرتے غلط کام سے دریغ کرتا ہے، لیکن احمق خود اعتماد ہے اور ایک دم مشتعل ہو جاتا ہے۔

¶ جس شخص نے غلط طریقے سے دولت جمع کی ہے وہ اُس تیتر کی مانند ہے جو کسی دوسرے کے انڈوں پر بیٹھ جاتا ہے۔ کیونکہ زندگی کے عروج پر اُسے سب کچھ چھوڑنا پڑے گا، اور آخرکار اُس کی حماقت سب پر ظاہر ہو جائے گی۔“

¶ یہ سن کر بادشاہ آگ بگولا ہو گیا۔ بڑے غصے میں اُس نے حکم دیا کہ بابل کے تمام دانش مندوں کو سزائے موت دی جائے۔

¶ یہ سن کر نبوکدنضر آگ بگولا ہو گیا۔ سدرک، میسک اور عبدنجو کے سامنے اُس کا چہرہ بگڑ گیا اور اُس نے حکم دیا کہ بھٹی کو معمول کی نسبت سات گُنا زیادہ گرم کیا جائے۔

تجھے اپنے بھائی کی بدقسمتی پر خوشی نہیں منانی چاہئے تھی۔ مناسب نہیں تھا کہ تُو یہوداہ کے باشندوں کی تباہی پر شادیانہ بجاتا۔ اُن کی مصیبت دیکھ کر تجھے شیخی نہیں مارنی چاہئے تھی۔

لہٰذا اگر تجھے بیت المُقدّس میں قربانی پیش کرتے وقت یاد آئے کہ تیرے بھائی کو تجھ سے کوئی شکایت ہے

لیکن مَیں تمہیں بتاتا ہوں، قَسم بالکل نہ کھانا۔ نہ ’آسمان کی قَسم‘ کیونکہ آسمان اللہ کا تخت ہے،

لوگوں سے خبردار رہو، کیونکہ وہ تم کو مقامی عدالتوں کے حوالے کر کے اپنے عبادت خانوں میں کوڑے لگوائیں گے۔

دیکھو، یحییٰ آیا اور نہ کھایا، نہ پیا۔ یہ دیکھ کر لوگ کہتے ہیں کہ اُس میں بدروح ہے۔

¶ وہ ابھی بات کر ہی رہا تھا کہ ایک چمک دار بادل آ کر اُن پر چھا گیا اور بادل میں سے ایک آواز سنائی دی، ”یہ میرا پیارا فرزند ہے، جس سے مَیں خوش ہوں۔ اِس کی سنو۔“

¶ پھر پطرس نے عیسیٰ کے پاس آ کر پوچھا، ”خداوند، جب میرا بھائی میرا گناہ کرے تو مَیں کتنی بار اُسے معاف کروں؟ سات بار تک؟“

¶ شریعت کے عالِمو اور فریسیو، تم پر افسوس! ریاکارو! تم ایک نومرید بنانے کی خاطر خشکی اور تری کے لمبے سفر کرتے ہو۔ اور جب اِس میں کامیاب ہو جاتے ہو تو تم اُس شخص کو اپنی نسبت جہنم کا دُگنا شریر فرزند بنا دیتے ہو۔

¶ پھر وہ بائیں ہاتھ والوں سے کہے گا، ’لعنتی لوگو، مجھ سے دُور ہو جاؤ اور اُس ابدی آگ میں چلے جاؤ جو ابلیس اور اُس کے فرشتوں کے لئے تیار ہے۔

اگر تیرا ہاتھ تجھے گناہ کرنے پر اُکسائے تو اُسے کاٹ ڈالنا۔ اِس سے پہلے کہ تُو دو ہاتھوں سمیت جہنم کی کبھی نہ بجھنے والی آگ میں چلا جائے [یعنی وہاں جہاں لوگوں کو کھانے والے کیڑے کبھی نہیں مرتے اور آگ کبھی نہیں بجھتی] بہتر یہ ہے کہ تُو ایک ہاتھ سے محروم ہو کر ابدی زندگی میں داخل ہو۔

¶ صبح سویرے ہی راہنما امام بزرگوں، شریعت کے علما اور پوری یہودی عدالتِ عالیہ کے ساتھ مل کر فیصلے تک پہنچ گئے۔ وہ عیسیٰ کو باندھ کر وہاں سے لے گئے اور رومی گورنر پیلاطس کے حوالے کر دیا۔

وہ جہنم میں پہنچا۔ عذاب کی حالت میں اُس نے اپنی نظر اُٹھائی تو دُور سے ابراہیم اور اُس کی گود میں لعزر کو دیکھا۔

¶ یہودیوں نے جواب دیا، ”کیا ہم نے ٹھیک نہیں کہا کہ تم سامری ہو اور کسی بدروح کے قبضے میں ہو؟“

اور ایسا ہونا بھی تھا تاکہ کلامِ مُقدّس کی یہ پیش گوئی پوری ہو جائے کہ ’اُنہوں نے بلاوجہ مجھ سے کینہ رکھا ہے۔‘

¶ چنانچہ اُنہوں نے رسولوں کو لا کر اجلاس کے سامنے کھڑا کیا۔ امامِ اعظم اُن سے مخاطب ہوا،

اپکوری اور ستوئیکی فلسفی بھی اُس سے بحث کرنے لگے۔ جب پولس نے اُنہیں عیسیٰ اور اُس کے جی اُٹھنے کی خوش خبری سنائی تو بعض نے پوچھا، ”یہ بکواسی اِن باتوں سے کیا کہنا چاہتا ہے جو اِس نے اِدھر اُدھر سے چن کر جوڑ دی ہیں؟“ دوسروں نے کہا، ”لگتا ہے کہ وہ اجنبی دیوتاؤں کی خبر دے رہا ہے۔“

لیکن نہیں۔ بھائی اپنے ہی بھائی پر مقدمہ چلاتا ہے اور وہ بھی غیرایمان داروں کے سامنے۔

غصے میں آتے وقت گناہ مت کرنا۔ آپ کا غصہ سورج کے غروب ہونے تک ٹھنڈا ہو جائے،

اِس معاملے میں کوئی اپنے بھائی کا گناہ نہ کرے، نہ اُس سے غلط فائدہ اُٹھائے۔ خداوند ایسے گناہوں کی سزا دیتا ہے۔ ہم یہ سب کچھ بتا چکے اور آپ کو آگاہ کر چکے ہیں۔

جب وہ کاملیت تک پہنچ گیا تو وہ اُن سب کی ابدی نجات کا سرچشمہ بن گیا جو اُس کی سنتے ہیں۔

ہوش میں آئیں! کیا آپ نہیں سمجھتے کہ نیک اعمال کے بغیر ایمان بےکار ہے؟

جب لوگوں نے اُسے گالیاں دیں تو اُس نے جواب میں گالیاں نہ دیں۔ جب اُسے دُکھ سہنا پڑا تو اُس نے کسی کو دھمکی نہ دی بلکہ اُس نے اپنے آپ کو اللہ کے حوالے کر دیا جو انصاف سے عدالت کرتا ہے۔

¶ جو نور میں ہونے کا دعویٰ کر کے اپنے بھائی سے نفرت کرتا ہے وہ اب تک تاریکی میں ہے۔

ہم تو جانتے ہیں کہ ہم موت سے نکل کر زندگی میں داخل ہو گئے ہیں۔ ہم یہ اِس لئے جانتے ہیں کہ ہم اپنے بھائیوں سے محبت رکھتے ہیں۔ جو محبت نہیں رکھتا وہ اب تک موت کی حالت میں ہے۔

¶ اگر کوئی اپنے بھائی کو ایسا گناہ کرتے دیکھے جس کا انجام موت نہ ہو تو وہ دعا کرے، اور اللہ اُسے زندگی عطا کرے گا۔ مَیں اُن گناہوں کی بات کر رہا ہوں جن کا انجام موت نہیں۔ لیکن ایک ایسا گناہ بھی ہے جس کا انجام موت ہے۔ مَیں نہیں کہہ رہا کہ ایسے شخص کے لئے دعا کی جائے جس سے ایسا گناہ سرزد ہوا ہو۔

پھر موت اور پاتال کو جلتی ہوئی جھیل میں پھینکا گیا۔ یہ جھیل دوسری موت ہے۔