بلعام نے کہا، ”اے بلق، اُٹھو اور سنو۔ اے صفور کے بیٹے، میری بات پر غور کرو۔
TSK
TSK · میکاہ 2:4
Treasury of Scripture Knowledge references in کتابِ مقدّس.
¶ وہ بول اُٹھا، ”بلعام بن بعور کا پیغام سنو، اُس کا پیغام جو صاف صاف دیکھتا ہے،
¶ پھر داؤد نے ساؤل اور یونتن پر ماتم کا گیت گایا۔
¶ یرمیاہ نے یوسیاہ کی یاد میں ماتمی گیت لکھے، اور آج تک گیت گانے والے مرد و خواتین یوسیاہ کی یاد میں ماتمی گیت گاتے ہیں، یہ پکا دستور بن گیا ہے۔ یہ گیت ’نوحہ کی کتاب‘ میں درج ہیں۔
¶ پھر ایوب نے اپنی بات جاری رکھی،
اُس دن تُو بابل کے بادشاہ پر طنز کا گیت گائے گا،
اے رب، تُو ہمیں اپنی راہوں سے کیوں بھٹکنے دیتا ہے؟ تُو نے ہمارے دلوں کو اِتنا سخت کیوں کر دیا کہ ہم تیرا خوف نہیں مان سکتے؟ ہماری خاطر واپس آ! کیونکہ ہم تیرے خادم، تیری موروثی ملکیت کے قبیلے ہیں۔
¶ مَیں پہاڑوں کے بارے میں آہ و زاری کروں گا، بیابان کی چراگاہوں پر ماتم کا گیت گاؤں گا۔ کیونکہ وہ یوں تباہ ہو گئے ہیں کہ نہ کوئی اُن میں سے گزرتا، نہ ریوڑوں کی آوازیں اُن میں سنائی دیتی ہیں۔ پرندے اور جانور سب بھاگ کر چلے گئے ہیں۔
رب الافواج فرماتا ہے، ”دھیان دے کر گریہ کرنے والی عورتوں کو بُلاؤ۔ جو جنازوں پر واویلا کرتی ہیں اُن میں سے سب سے ماہر عورتوں کو بُلاؤ۔
اِس لئے مَیں شمال کی تمام قوموں اور اپنے خادم بابل کے بادشاہ نبوکدنضر کو بُلا لوں گا تاکہ وہ اِس ملک، اِس کے باشندوں اور گرد و نواح کے ممالک پر حملہ کریں۔ تب یہ صفحۂ ہستی سے یوں مٹ جائیں گے کہ لوگوں کے رونگٹے کھڑے ہو جائیں گے اور وہ اُن کا مذاق اُڑائیں گے۔ یہ علاقے دائمی کھنڈرات بن جائیں گے۔
طومار کو کھولا گیا تو مَیں نے دیکھا کہ اُس میں آگے بھی اور پیچھے بھی ماتم اور آہ و زاری قلم بند ہوئی ہے۔
¶ آہ و زاری کرو، ٹاٹ سے ملبّس اُس کنواری کی طرح گریہ کرو جس کا منگیتر انتقال کر گیا ہو۔
¶ اے اسرائیلی قوم، میری بات سنو، تمہارے بارے میں میرے نوحہ پر دھیان دو!
¶ اے مریسہ کے لوگو، مَیں ہونے دوں گا کہ ایک قبضہ کرنے والا تم پر حملہ کرے گا۔ تب اسرائیل کا جلال عدُلام تک پہنچے گا۔
¶ لیکن یہ سب اُس کا مذاق اُڑا کر اُسے لعن طعن کریں گی۔ وہ کہیں گی، ’اُس پر افسوس جو دوسروں کی چیزیں چھین کر اپنی ملکیت میں اضافہ کرتا ہے، جو قرض داروں کی ضمانت پر قبضہ کرنے سے دولت مند ہو گیا ہے۔ یہ کارروائی کب تک جاری رہے گی؟‘
¶ اِس پر دینی راہنماؤں نے عیسیٰ کو گرفتار کرنے کی کوشش کی، کیونکہ وہ سمجھ گئے تھے کہ تمثیل میں بیان شدہ مزارع ہم ہی ہیں۔ لیکن وہ ہجوم سے ڈرتے تھے، اِس لئے وہ اُسے چھوڑ کر چلے گئے۔