TSK

TSK · میکاہ 4:1

Treasury of Scripture Knowledge references in کتابِ مقدّس.

واپس گزرنے پر

شاہی عصا یہوداہ سے دُور نہیں ہو گا بلکہ شاہی اختیار اُس وقت تک اُس کی اولاد کے پاس رہے گا جب تک وہ حاکم نہ آئے جس کے تابع قومیں رہیں گی۔

¶ کوہِ بسن الٰہی پہاڑ ہے، کوہِ بسن کی متعدد چوٹیاں ہیں۔

¶ اُس کے دورِ حکومت میں راست باز پھلے پھولے گا، اور جب تک چاند نیست نہ ہو جائے سلامتی کا غلبہ ہو گا۔

¶ اے رب، جتنی بھی قومیں تُو نے بنائیں وہ آ کر تیرے حضور سجدہ کریں گی اور تیرے نام کو جلال دیں گی۔

¶ یسعیاہ بن آموص نے یہوداہ اور یروشلم کے بارے میں ذیل کی رویا دیکھی،

¶ میرے تمام مُقدّس پہاڑ پر نہ غلط اور نہ تباہ کن کام کیا جائے گا۔ کیونکہ ملک رب کے عرفان سے یوں معمور ہو گا جس طرح سمندر پانی سے بھرا رہتا ہے۔

شمال کو مَیں حکم دوں گا، ’مجھے دو!‘ اور جنوب کو، ’اُنہیں مت روکنا!‘ میرے بیٹے بیٹیوں کو دنیا کی انتہا سے واپس لے آؤ،

¶ ”فی الحال تیرے ملک میں چاروں طرف کھنڈرات، اُجاڑ اور تباہی نظر آتی ہے، لیکن آئندہ وہ اپنے باشندوں کی کثرت کے باعث چھوٹا ہو گا۔ اور جنہوں نے تجھے ہڑپ کر لیا تھا وہ دُور رہیں گے۔

اقوام تیرے نور کے پاس اور بادشاہ اُس چمکتی دمکتی روشنی کے پاس آئیں گے جو تجھ پر طلوع ہو گی۔

¶ چنانچہ مَیں جو اُن کے اعمال اور خیالات سے واقف ہوں تمام اقوام اور الگ الگ زبانیں بولنے والوں کو جمع کرنے کے لئے نازل ہو رہا ہوں۔ تب وہ آ کر میرے جلال کا مشاہدہ کریں گے۔

¶ اے رب، تُو میری قوت اور میرا قلعہ ہے، مصیبت کے دن مَیں تجھ میں پناہ لیتا ہوں۔ دنیا کی انتہا سے اقوام تیرے پاس آ کر کہیں گی، ”ہمارے باپ دادا کو میراث میں جھوٹ ہی ملا، ایسے بےکار بُت جو اُن کی مدد نہ کر سکے۔

¶ رب قادرِ مطلق فرماتا ہے کہ اب مَیں خود دیودار کے درخت کی چوٹی سے نرم و نازک کونپل توڑ کر اُسے ایک بلند و بالا پہاڑ پر لگا دوں گا۔

میری قوم اسرائیل پر دھاوا بول دیں گے۔ وہ اُس پر بادل کی طرح چھا جائیں گے۔ اے جوج، اُن آخری دنوں میں مَیں خود تجھے اپنے ملک پر حملہ کرنے دوں گا تاکہ دیگر اقوام مجھے جان لیں۔ کیونکہ جو کچھ مَیں اُن کے دیکھتے دیکھتے تیرے ساتھ کروں گا اُس سے میرا مُقدّس کردار اُن پر ظاہر ہو جائے گا۔

رب کے گھر کے لئے میری ہدایت سن! اِس پہاڑ کی چوٹی گرد و نواح کے تمام علاقے سمیت مُقدّس ترین جگہ ہے۔ یہ گھر کے لئے میری ہدایت ہے۔“

نتیجے میں پورا مجسمہ پاش پاش ہو گیا۔ جتنا بھی لوہا، مٹی، پیتل، چاندی اور سونا تھا وہ اُس بھوسے کی مانند بن گیا جو گاہتے وقت باقی رہ جاتا ہے۔ ہَوا نے سب کچھ یوں اُڑا دیا کہ اِن چیزوں کا نام و نشان تک نہ رہا۔ لیکن جس پتھر نے مجسمے کو گرا دیا وہ زبردست پہاڑ بن کر اِتنا بڑھ گیا کہ پوری دنیا اُس سے بھر گئی۔

اُسے سلطنت، عزت اور بادشاہی دی گئی، اور ہر قوم، اُمّت اور زبان کے افراد نے اُس کی پرستش کی۔ اُس کی حکومت ابدی ہے اور کبھی ختم نہیں ہو گی۔ اُس کی بادشاہی کبھی تباہ نہیں ہو گی۔

لیکن پھر قدیم الایام آ پہنچا اور اللہ تعالیٰ کے مُقدّسین کے لئے انصاف قائم کیا۔ پھر وہ وقت آیا جب مُقدّسین کو بادشاہی حاصل ہوئی۔

مَیں تجھے وہ کچھ سنانے کو آیا ہوں جو آخری دنوں میں تیری قوم کو پیش آئے گا۔ کیونکہ رویا کا تعلق آنے والے وقت سے ہے۔“

¶ تمہاری وجہ سے صیون پر ہل چلایا جائے گا اور یروشلم ملبے کا ڈھیر بن جائے گا۔ جس پہاڑ پر رب کا گھر ہے اُس پر جنگل چھا جائے گا۔

اُس دن بہت سی اقوام میرے ساتھ پیوست ہو کر میری قوم کا حصہ بن جائیں گی۔ مَیں خود تیرے درمیان سکونت کروں گا۔“ تب تُو جان لے گی کہ رب الافواج نے مجھے تیرے پاس بھیجا ہے۔

پورا ملک شمالی شہر جِبع سے لے کر یروشلم کے جنوب میں واقع شہر رِمّون تک کھلا میدان بن جائے گا۔ صرف یروشلم اپنی ہی اونچی جگہ پر رہے گا۔ اُس کی پرانی حدود بھی قائم رہیں گی یعنی بن یمین کے دروازے سے لے کر پرانے دروازے اور کونے کے دروازے تک، پھر حنن ایل کے بُرج سے لے کر اُس جگہ تک جہاں شاہی مَے بنائی جاتی ہے۔

¶ رب الافواج فرماتا ہے، ”پوری دنیا میں مشرق سے مغرب تک میرا نام عظیم ہے۔ ہر جگہ میرے نام کو بخور اور پاک قربانیاں پیش کی جاتی ہیں۔ کیونکہ دیگر اقوام میں میرا نام عظیم ہے۔

¶ بھائیو، مَیں چاہتا ہوں کہ آپ ایک بھید سے واقف ہو جائیں، کیونکہ یہ آپ کو اپنے آپ کو دانا سمجھنے سے باز رکھے گا۔ بھید یہ ہے کہ اسرائیل کا ایک حصہ اللہ کے فضل کے بارے میں بےحس ہو گیا ہے، اور اُس کی یہ حالت اُس وقت تک رہے گی جب تک غیریہودیوں کی پوری تعداد اللہ کی بادشاہی میں داخل نہ ہو جائے۔

اوّل آپ کو یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اِن آخری دنوں میں ایسے لوگ آئیں گے جو مذاق اُڑا کر اپنی شہوتوں کے قبضے میں رہیں گے۔

¶ اے رب، کون تیرا خوف نہیں مانے گا؟ کون تیرے نام کو جلال نہیں دے گا؟ کیونکہ تُو ہی قدوس ہے۔ تمام قومیں آ کر تیرے حضور سجدہ کریں گی، کیونکہ تیرے راست کام ظاہر ہو گئے ہیں۔“

¶ پھر مَیں نے ایک نیا آسمان اور ایک نئی زمین دیکھی۔ کیونکہ پہلا آسمان اور پہلی زمین ختم ہو گئے تھے اور سمندر بھی نیست تھا۔