مہربانی کر کے اُنہیں معاف کر۔ لیکن اگر تُو اُنہیں معاف نہ کرے تو پھر مجھے بھی اپنی اُس کتاب میں سے مٹا دے جس میں تُو نے اپنے لوگوں کے نام درج کئے ہیں۔“
TSK
TSK · فِلپّیوں 4:3
Treasury of Scripture Knowledge references in کتابِ مقدّس.
تب جو بھی صیون میں باقی رہ گئے ہوں گے وہ مُقدّس کہلائیں گے۔ یروشلم کے جن باشندوں کے نام زندوں کی فہرست میں درج کئے گئے ہیں وہ بچ کر مُقدّس کہلائیں گے۔
¶ اُس وقت فرشتوں کا عظیم سردار میکائیل اُٹھ کھڑا ہو گا، وہ جو تیری قوم کی شفاعت کرتا ہے۔ مصیبت کا ایسا وقت ہو گا کہ قوموں کے پیدا ہونے سے لے کر اُس وقت تک نہیں ہوا ہو گا۔ لیکن ساتھ ساتھ تیری قوم کو نجات ملے گی۔ جس کا بھی نام اللہ کی کتاب میں درج ہے وہ نجات پائے گا۔
¶ یافا میں ایک عورت تھی جو شاگرد تھی اور نیک کام کرنے اور خیرات دینے میں بہت آگے تھی۔ اُس کا نام تبیتا (غزالہ) تھا۔
¶ بھائیو، اللہ نے آپ پر کتنا رحم کیا ہے! اب ضروری ہے کہ آپ اپنے بدنوں کو اللہ کے لئے مخصوص کریں، کہ وہ ایک ایسی زندہ اور مُقدّس قربانی بن جائیں جو اُسے پسند آئے۔ ایسا کرنے سے آپ اُس کی معقول عبادت کریں گے۔
مسیح میں ہمارے ہم خدمت اُربانس کو سلام اور اِسی طرح میرے عزیز دوست استخُس کو بھی۔
¶ لیکن آپ ہر صورت میں مسیح کی خوش خبری اور آسمان کے شہریوں کے لائق زندگی گزاریں۔ پھر خواہ مَیں آ کر آپ کو دیکھوں، خواہ غیرموجودگی میں آپ کے بارے میں سنوں، مجھے معلوم ہو گا کہ آپ ایک روح میں قائم ہیں، آپ مل کر یک دلی سے اُس ایمان کے لئے جاں فشانی کر رہے ہیں جو اللہ کی خوش خبری سے پیدا ہوا ہے،
مَیں یوؤدیہ اور سنتخے سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ خداوند میں ایک جیسی سوچ رکھیں۔
¶ جس بیوہ کی عمر 60 سال سے کم ہے اُسے بیواؤں کی فہرست میں درج نہ کیا جائے۔ شرط یہ بھی ہے کہ جب اُس کا شوہر زندہ تھا تو وہ اُس کی وفادار رہی ہو
جو غالب آئے گا وہ بھی اُن کی طرح سفید کپڑے پہنے ہوئے پھرے گا۔ مَیں اُس کا نام کتابِ حیات سے نہیں مٹاؤں گا بلکہ اپنے باپ اور اُس کے فرشتوں کے سامنے اقرار کروں گا کہ یہ میرا ہے۔
جس حیوان کو تُو نے دیکھا وہ پہلے تھا، اِس وقت نہیں ہے اور دوبارہ اتھاہ گڑھے میں سے نکل کر ہلاکت کی طرف بڑھے گا۔ زمین کے جن باشندوں کے نام دنیا کی تخلیق سے ہی کتابِ حیات میں درج نہیں ہیں وہ حیوان کو دیکھ کر حیرت زدہ ہو جائیں گے۔ کیونکہ وہ پہلے تھا، اِس وقت نہیں ہے لیکن دوبارہ آئے گا۔
جس کسی کا نام کتابِ حیات میں درج نہیں تھا اُسے جلتی ہوئی جھیل میں پھینکا گیا۔