کتابِ مقدّس / امثال / باب 16
کتابِ مقدّس · chapter 16
1 ¶ انسان دل میں منصوبے باندھتا ہے، لیکن زبان کا جواب رب کی طرف سے آتا ہے۔
2 ¶ انسان کی نظر میں اُس کی تمام راہیں پاک صاف ہیں، لیکن رب ہی روحوں کی جانچ پڑتال کرتا ہے۔
3 ¶ جو کچھ بھی تُو کرنا چاہے اُسے رب کے سپرد کر۔ تب ہی تیرے منصوبے کامیاب ہوں گے۔
4 ¶ رب نے سب کچھ اپنے ہی مقاصد پورے کرنے کے لئے بنایا ہے۔ وہ دن بھی پہلے سے مقرر ہے جب بےدین پر آفت آئے گی۔
5 ¶ رب ہر مغرور دل سے گھن کھاتا ہے۔ یقیناً وہ سزا سے نہیں بچے گا۔
6 ¶ شفقت اور وفاداری گناہ کا کفارہ دیتی ہیں۔ رب کا خوف ماننے سے انسان بُرائی سے دُور رہتا ہے۔
7 ¶ اگر رب کسی انسان کی راہوں سے خوش ہو تو وہ اُس کے دشمنوں کو بھی اُس سے صلح کرانے دیتا ہے۔
8 ¶ انصاف سے تھوڑا بہت کمانا ناانصافی سے بہت دولت جمع کرنے سے کہیں بہتر ہے۔
9 ¶ انسان اپنے دل میں منصوبے باندھتا رہتا ہے، لیکن رب ہی مقرر کرتا ہے کہ وہ آخرکار کس راہ پر چل پڑے۔
10 ¶ بادشاہ کے ہونٹ گویا الٰہی فیصلے پیش کرتے ہیں، اُس کا منہ عدالت کرتے وقت بےوفا نہیں ہوتا۔
11 ¶ رب درست ترازو کا مالک ہے، اُسی نے تمام باٹوں کا انتظام قائم کیا۔
12 ¶ بادشاہ بےدینی سے گھن کھاتا ہے، کیونکہ اُس کا تخت راست بازی کی بنیاد پر مضبوط رہتا ہے۔
13 ¶ بادشاہ راست باز ہونٹوں سے خوش ہوتا اور صاف بات کرنے والے سے محبت رکھتا ہے۔
14 ¶ بادشاہ کا غصہ موت کا پیش خیمہ ہے، لیکن دانش مند اُسے ٹھنڈا کرنے کے طریقے جانتا ہے۔
15 ¶ جب بادشاہ کا چہرہ کِھل اُٹھے تو مطلب زندگی ہے۔ اُس کی منظوری موسمِ بہار کے تر و تازہ کرنے والے بادل کی مانند ہے۔
16 ¶ حکمت کا حصول سونے سے کہیں بہتر اور سمجھ پانا چاندی سے کہیں بڑھ کر ہے۔
17 ¶ دیانت دار کی مضبوط راہ بُرے کام سے دُور رہتی ہے، جو اپنی راہ کی پہرا داری کرے وہ اپنی جان بچائے رکھتا ہے۔
18 ¶ تباہی سے پہلے غرور اور گرنے سے پہلے تکبر آتا ہے۔
19 ¶ فروتنی سے ضرورت مندوں کے درمیان بسنا گھمنڈیوں کے لُوٹے ہوئے مال میں شریک ہونے سے کہیں بہتر ہے۔
20 ¶ جو کلام پر دھیان دے وہ خوش حال ہو گا، مبارک ہے وہ جو رب پر بھروسا رکھے۔
21 ¶ جو دل سے دانش مند ہے اُسے سمجھ دار قرار دیا جاتا ہے، اور میٹھے الفاظ تعلیم میں اضافہ کرتے ہیں۔
22 ¶ فہم اپنے مالک کے لئے زندگی کا سرچشمہ ہے، لیکن احمق کی اپنی ہی حماقت اُسے سزا دیتی ہے۔
23 ¶ دانش مند کا دل سمجھ کی باتیں زبان پر لاتا اور تعلیم دینے میں ہونٹوں کا سہارا بنتا ہے۔
24 ¶ مہربان الفاظ خالص شہد ہیں، وہ جان کے لئے شیریں اور پورے جسم کو تر و تازہ کر دیتے ہیں۔
25 ¶ ایسی راہ بھی ہوتی ہے جو دیکھنے میں تو ٹھیک لگتی ہے گو اُس کا انجام موت ہے۔
26 ¶ مزدور کا خالی پیٹ اُسے کام کرنے پر مجبور کرتا، اُس کی بھوک اُسے ہانکتی رہتی ہے۔
27 ¶ شریر کُرید کُرید کر غلط کام نکال لیتا، اُس کے ہونٹوں پر جُھلسانے والی آگ رہتی ہے۔
28 ¶ کج رَو آدمی جھگڑے چھیڑتا رہتا، اور تہمت لگانے والا دلی دوستوں میں بھی رخنہ ڈالتا ہے۔
29 ¶ ظالم اپنے پڑوسی کو ورغلا کر غلط راہ پر لے جاتا ہے۔
30 ¶ جو آنکھ مارے وہ غلط منصوبے باندھ رہا ہے، جو اپنے ہونٹ چبائے وہ غلط کام کرنے پر تُلا ہوا ہے۔
31 ¶ سفید بال ایک شاندار تاج ہیں جو راست باز زندگی گزارنے سے حاصل ہوتے ہیں۔
32 ¶ تحمل کرنے والا سورمے سے سبقت لیتا ہے، جو اپنے آپ کو قابو میں رکھے وہ شہر کو شکست دینے والے سے برتر ہے۔
33 ¶ انسان تو قرعہ ڈالتا ہے، لیکن اُس کا ہر فیصلہ رب کی طرف سے ہے۔