All books in کتابِ مقدّس

امثال 15

کتابِ مقدّس · chapter 15

31 ابواب

کتابِ مقدّس / امثال / باب 15

کتابِ مقدّس · chapter 15

1 ¶ نرم جواب غصہ ٹھنڈا کرتا، لیکن تُرش بات طیش دلاتی ہے۔

2 ¶ دانش مندوں کی زبان علم و عرفان پھیلاتی ہے جبکہ احمق کا منہ حماقت کا زور سے اُبلنے والا چشمہ ہے۔

3 ¶ رب کی آنکھیں ہر جگہ موجود ہیں، وہ بُرے اور بھلے سب پر دھیان دیتی ہیں۔

4 ¶ نرم زبان زندگی کا درخت ہے جبکہ فریب دہ زبان شکستہ دل کر دیتی ہے۔

5 ¶ احمق اپنے باپ کی تربیت کو حقیر جانتا ہے، لیکن جو نصیحت مانے وہ دانش مند ہے۔

6 ¶ راست باز کے گھر میں بڑا خزانہ ہوتا ہے، لیکن جو کچھ بےدین حاصل کرتا ہے وہ تباہی کا باعث ہے۔

7 ¶ دانش مندوں کے ہونٹ علم و عرفان کا بیج بکھیر دیتے ہیں، لیکن احمقوں کا دل ایسا نہیں کرتا۔

8 ¶ رب بےدینوں کی قربانی سے گھن کھاتا، لیکن سیدھی راہ پر چلنے والوں کی دعا سے خوش ہوتا ہے۔

9 ¶ رب بےدین کی راہ سے گھن کھاتا، لیکن راستی کا پیچھا کرنے والے سے پیار کرتا ہے۔

10 ¶ جو صحیح راہ کو ترک کرے اُس کی سخت تادیب کی جائے گی، جو نصیحت سے نفرت کرے وہ مر جائے گا۔

11 ¶ پاتال اور عالمِ ارواح رب کو صاف نظر آتے ہیں۔ تو پھر انسانوں کے دل اُسے کیوں نہ صاف دکھائی دیں؟

12 ¶ طعنہ زن کو دوسروں کی نصیحت پسند نہیں آتی، اِس لئے وہ دانش مندوں کے پاس نہیں جاتا۔

13 ¶ جس کا دل خوش ہے اُس کا چہرہ کِھلا رہتا ہے، لیکن جس کا دل پریشان ہے اُس کی روح شکستہ رہتی ہے۔

14 ¶ سمجھ دار کا دل علم و عرفان کی تلاش میں رہتا، لیکن احمق حماقت کی چراگاہ میں چرتا رہتا ہے۔

15 ¶ مصیبت زدہ کے تمام دن بُرے ہیں، لیکن جس کا دل خوش ہے وہ روزانہ جشن مناتا ہے۔

16 ¶ جو غریب رب کا خوف مانتا ہے اُس کا حال اُس کروڑپتی سے کہیں بہتر ہے جو بڑی بےچینی سے زندگی گزارتا ہے۔

17 ¶ جہاں محبت ہے وہاں سبزی کا سالن بہت ہے، جہاں نفرت ہے وہاں موٹے تازے بچھڑے کی ضیافت بھی بےفائدہ ہے۔

18 ¶ غصیلا آدمی جھگڑے چھیڑتا رہتا جبکہ تحمل کرنے والا لوگوں کے غصے کو ٹھنڈا کر دیتا ہے۔

19 ¶ کاہل کا راستہ کانٹےدار باڑ کی مانند ہے، لیکن دیانت داروں کی راہ پکی سڑک ہی ہے۔

20 ¶ دانش مند بیٹا اپنے باپ کے لئے خوشی کا باعث ہے، لیکن احمق اپنی ماں کو حقیر جانتا ہے۔

21 ¶ ناسمجھ آدمی حماقت سے لطف اندوز ہوتا، لیکن سمجھ دار آدمی سیدھی راہ پر چلتا ہے۔

22 ¶ جہاں صلاح مشورہ نہیں ہوتا وہاں منصوبے ناکام رہ جاتے ہیں، جہاں بہت سے مشیر ہوتے ہیں وہاں کامیابی ہوتی ہے۔

23 ¶ انسان موزوں جواب دینے سے خوش ہو جاتا ہے، وقت پر مناسب بات کتنی اچھی ہوتی ہے۔

24 ¶ زندگی کی راہ چڑھتی رہتی ہے تاکہ سمجھ دار اُس پر چلتے ہوئے پاتال میں اُترنے سے بچ جائے۔

25 ¶ رب متکبر کا گھر ڈھا دیتا، لیکن بیوہ کی زمین کی حدود محفوظ رکھتا ہے۔

26 ¶ رب بُرے منصوبوں سے گھن کھاتا ہے، اور مہربان الفاظ اُس کے نزدیک پاک ہیں۔

27 ¶ جو ناجائز نفع کمائے وہ اپنے گھر پر آفت لاتا ہے، لیکن جو رشوت سے نفرت رکھے وہ جیتا رہے گا۔

28 ¶ راست باز کا دل سوچ سمجھ کر جواب دیتا ہے، لیکن بےدین کا منہ زور سے اُبلنے والا چشمہ ہے جس سے بُری باتیں نکلتی رہتی ہیں۔

29 ¶ رب بےدینوں سے دُور رہتا، لیکن راست باز کی دعا سنتا ہے۔

30 ¶ چمکتی آنکھیں دل کو خوشی دلاتی ہیں، اچھی خبر پورے جسم کو تر و تازہ کر دیتی ہے۔

31 ¶ جو زندگی بخش نصیحت پر دھیان دے وہ دانش مندوں کے درمیان ہی سکونت کرے گا۔

32 ¶ جو تربیت کی پروا نہ کرے وہ اپنے آپ کو حقیر جانتا ہے، لیکن جو نصیحت پر دھیان دے اُس کی سمجھ میں اضافہ ہوتا ہے۔

33 ¶ رب کا خوف ہی وہ تربیت ہے جس سے انسان حکمت سیکھتا ہے۔ پہلے فروتنی اپنا لے، کیونکہ یہی عزت پانے کا پہلا قدم ہے۔