کتابِ مقدّس / امثال / باب 28
کتابِ مقدّس · chapter 28
1 ¶ بےدین فرار ہو جاتا ہے حالانکہ تعاقب کرنے والا کوئی نہیں ہوتا، لیکن راست باز اپنے آپ کو جوان شیرببر کی طرح محفوظ سمجھتا ہے۔
2 ¶ ملک کی خطاکاری کے سبب سے اُس کی حکومت کی یگانگت قائم نہیں رہے گی، لیکن سمجھ دار اور دانش مند آدمی اُسے بڑی دیر تک قائم رکھے گا۔
3 ¶ جو غریب غریبوں پر ظلم کرے وہ اُس موسلادھار بارش کی مانند ہے جو سیلاب لا کر فصلوں کو تباہ کر دیتی ہے۔
4 ¶ جس نے شریعت کو ترک کیا وہ بےدین کی تعریف کرتا ہے، لیکن جو شریعت کے تابع رہتا ہے وہ اُس کی مخالفت کرتا ہے۔
5 ¶ شریر انصاف نہیں سمجھتے، لیکن رب کے طالب سب کچھ سمجھتے ہیں۔
6 ¶ بےالزام زندگی گزارنے والا غریب ٹیڑھی راہوں پر چلنے والے امیر سے بہتر ہے۔
7 ¶ جو شریعت کی پیروی کرے وہ سمجھ دار بیٹا ہے، لیکن عیاشوں کا ساتھی اپنے باپ کی بےعزتی کرتا ہے۔
8 ¶ جو اپنی دولت ناجائز سود سے بڑھائے وہ اُسے کسی اَور کے لئے جمع کر رہا ہے، ایسے شخص کے لئے جو غریبوں پر رحم کرے گا۔
9 ¶ جو اپنے کان میں اُنگلی ڈالے تاکہ شریعت کی باتیں نہ سنے اُس کی دعائیں بھی قابلِ گھن ہیں۔
10 ¶ جو سیدھی راہ پر چلنے والوں کو غلط راہ پر لائے وہ اپنے ہی گڑھے میں گر جائے گا، لیکن بےالزام اچھی میراث پائیں گے۔
11 ¶ امیر اپنے آپ کو دانش مند سمجھتا ہے، لیکن جو ضرورت مند سمجھ دار ہے وہ اُس کا اصلی کردار معلوم کر لیتا ہے۔
12 ¶ جب راست باز فتح یاب ہوں تو ملک کی شان و شوکت بڑھ جاتی ہے، لیکن جب بےدین اُٹھ کھڑے ہوں تو لوگ چھپ جاتے ہیں۔
13 ¶ جو اپنے گناہ چھپائے وہ ناکام رہے گا، لیکن جو اُنہیں تسلیم کر کے ترک کرے وہ رحم پائے گا۔
14 ¶ مبارک ہے وہ جو ہر وقت رب کا خوف مانے، لیکن جو اپنا دل سخت کرے وہ مصیبت میں پھنس جائے گا۔
15 ¶ پست حال قوم پر حکومت کرنے والا بےدین غُراتے ہوئے شیرببر اور حملہ آور ریچھ کی مانند ہے۔
16 ¶ جہاں ناسمجھ حکمران ہے وہاں ظلم ہوتا ہے، لیکن جسے غلط نفع سے نفرت ہو اُس کی عمر دراز ہو گی۔
17 ¶ جو کسی کو قتل کرے وہ موت تک اپنے قصور کے نیچے دبا ہوا مارا مارا پھرے گا۔ ایسے شخص کا سہارا نہ بن!
18 ¶ جو بےالزام زندگی گزارے وہ بچا رہے گا، لیکن جو ٹیڑھی راہ پر چلے وہ اچانک ہی گر جائے گا۔
19 ¶ جو اپنی زمین کی کھیتی باڑی کرے وہ جی بھر کر روٹی کھائے گا، لیکن جو فضول چیزوں کے پیچھے پڑ جائے وہ غربت سے سیر ہو جائے گا۔
20 ¶ قابلِ اعتماد آدمی کو کثرت کی برکتیں حاصل ہوں گی، لیکن جو بھاگ بھاگ کر دولت جمع کرنے میں مصروف رہے وہ سزا سے نہیں بچے گا۔
21 ¶ جانب داری بُری بات ہے، لیکن انسان روٹی کا ٹکڑا حاصل کرنے کے لئے مجرم بن جاتا ہے۔
22 ¶ لالچی بھاگ بھاگ کر دولت جمع کرتا ہے، اُسے معلوم ہی نہیں کہ اِس کا انجام غربت ہی ہے۔
23 ¶ آخرکار نصیحت دینے والا چاپلوسی کرنے والے سے زیادہ منظور ہوتا ہے۔
24 ¶ جو اپنے باپ یا ماں کو لُوٹ کر کہے، ”یہ جرم نہیں ہے“ وہ مہلک قاتل کا شریکِ کار ہوتا ہے۔
25 ¶ لالچی جھگڑوں کا منبع رہتا ہے، لیکن جو رب پر بھروسا رکھے وہ خوش حال رہے گا۔
26 ¶ جو اپنے دل پر بھروسا رکھے وہ بےوقوف ہے، لیکن جو حکمت کی راہ پر چلے وہ محفوظ رہے گا۔
27 ¶ غریبوں کو دینے والا ضرورت مند نہیں ہو گا، لیکن جو اپنی آنکھیں بند کر کے اُنہیں نظرانداز کرے اُس پر بہت لعنتیں آئیں گی۔
28 ¶ جب بےدین اُٹھ کھڑے ہوں تو لوگ چھپ جاتے ہیں، لیکن جب ہلاک ہو جائیں تو راست بازوں کی تعداد بڑھ جاتی ہے۔