پھر رب ہونے دے گا کہ دن کو بادل صیون کے پورے پہاڑ اور اُس پر جمع ہونے والوں پر سایہ ڈالے جبکہ رات کو دھواں اور دہکتی آگ کی چمک دمک اُس پر چھائی رہے۔ یوں اُس پورے شاندار علاقے پر سائبان ہو گا
TSK
TSK · مکاشفہ 21:11
Treasury of Scripture Knowledge references in کتابِ مقدّس.
¶ آئندہ تجھے نہ دن کے وقت سورج، نہ رات کے وقت چاند کی ضرورت ہو گی، کیونکہ رب ہی تیری ابدی روشنی ہو گا، تیرا خدا ہی تیری آب و تاب ہو گا۔
مَیں نے دیکھا کہ اُن کے سروں کے اوپر کے گنبد پر سنگِ لاجورد کا تخت سا نظر آ رہا ہے جس پر کوئی بیٹھا تھا جس کی شکل و صورت انسان کی مانند ہے۔
تجارت میں کامیابی کی وجہ سے تُو ظلم و تشدد سے بھر گیا اور گناہ کرنے لگا۔ یہ دیکھ کر مَیں نے تجھے اللہ کے پہاڑ پر سے اُتار دیا۔ مَیں نے تجھے جو پہرا داری کرنے والا فرشتہ تھا تباہ کر کے جلتے ہوئے پتھروں کے درمیان سے نکال دیا۔
فصیل کی پوری لمبائی 9 کلو میٹر ہے۔ تب شہر ’یہاں رب ہے‘ کہلائے گا!“
تخت کے سامنے شیشے کا سا سمندر بھی تھا جو بلور سے مطابقت رکھتا تھا۔ بیچ میں تخت کے ارد گرد چار جاندار تھے جن کے جسموں پر ہر جگہ آنکھیں ہی آنکھیں تھیں، سامنے والے حصے پر بھی اور پیچھے والے حصے پر بھی۔
فصیل یشب کی تھی جبکہ شہر خالص سونے کا تھا، یعنی صاف شفاف شیشے جیسے سونے کا۔
¶ پھر فرشتے نے مجھے زندگی کے پانی کا دریا دکھایا۔ وہ بلور جیسا صاف شفاف تھا اور اللہ اور لیلے کے تخت سے نکل کر