”امامِ اعظم خِلقیاہ کے پاس جا کر اُسے بتا دینا کہ اُن تمام پیسوں کو گن لیں جو دربانوں نے لوگوں سے جمع کئے ہیں۔
TSK
TSK · ۲-توارِیخ 34:9
مراجع Treasury of Scripture Knowledge في کتابِ مقدّس.
تو لاوی اُسے اُٹھا کر بادشاہ کے افسروں کے پاس لے جاتے۔ اگر اُس میں واقعی بہت پیسے ہوتے تو بادشاہ کا میرمنشی اور امامِ اعظم کا ایک افسر آ کر اُسے خالی کر دیتے۔ پھر لاوی اُسے اُس کی جگہ واپس رکھ دیتے تھے۔ یہ سلسلہ روزانہ جاری رہا، اور آخرکار بہت بڑی رقم اکٹھی ہو گئی۔
خاص کر افرائیم، منسّی، زبولون اور اِشکار کے اکثر لوگوں نے اپنے آپ کو صحیح طور پر پاک صاف نہیں کیا تھا۔ چنانچہ وہ فسح کے کھانے میں اُس حالت میں شریک نہ ہوئے جس کا تقاضا شریعت کرتی ہے۔ لیکن حِزقیاہ نے اُن کی شفاعت کر کے دعا کی، ”رب جو مہربان ہے ہر ایک کو معاف کرے
¶ جب وہ پیسے باہر لائے گئے جو رب کے گھر میں جمع ہوئے تھے تو خِلقیاہ کو شریعت کی وہ کتاب ملی جو رب نے موسیٰ کی معرفت دی تھی۔
اُس نے خِلقیاہ، اخی قام بن سافن، عبدون بن میکاہ، میرمنشی سافن اور اپنے خاص خادم عسایاہ کو بُلا کر اُنہیں حکم دیا،
اِس کے علاوہ بادشاہ کے افسروں نے بھی اپنی خوشی سے قوم، اماموں اور لاویوں کو جانور دیئے۔ اللہ کے گھر کے سب سے اعلیٰ افسروں خِلقیاہ، زکریاہ اور یحی ایل نے دیگر اماموں کو فسح کی قربانی کے لئے 2,600 بھیڑبکریوں کے بچے دیئے، نیز 300 بَیل۔