¶ عمارت کے سامنے ایک اندرونی صحن بنایا گیا جس کی چاردیواری یوں تعمیر ہوئی کہ پتھر کے ہر تین ردّوں کے بعد دیودار کے شہتیروں کا ایک ردّا لگایا گیا۔
TSK
TSK · ۲-سلاطِین 21:5
مراجع Treasury of Scripture Knowledge في کتابِ مقدّس.
¶ اب بادشاہ نے امامِ اعظم خِلقیاہ، دوسرے درجے پر مقرر اماموں اور دربانوں کو حکم دیا، ”رب کے گھر میں سے وہ تمام چیزیں نکال دیں جو بعل دیوتا، یسیرت دیوی اور آسمان کے پورے لشکر کی پوجا کے لئے استعمال ہوئی ہیں۔“ پھر اُس نے یہ سارا سامان یروشلم کے باہر وادیٔ قدرون کے کھلے میدان میں جلا دیا اور اُس کی راکھ اُٹھا کر بیت ایل لے گیا۔
آخز بادشاہ نے اپنی چھت پر ایک کمرا بنایا تھا جس کی چھت پر بھی مختلف بادشاہوں کی بنی ہوئی قربان گاہیں تھیں۔ اب یوسیاہ نے اِن کو بھی ڈھا دیا اور اُن دو قربان گاہوں کو بھی جو منسّی نے رب کے گھر کے دو صحنوں میں کھڑی کی تھیں۔ اِن کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے اُس نے ملبہ وادیٔ قدرون میں پھینک دیا۔
لیکن منسّی نے پروا نہ کی بلکہ رب کے گھر کے دونوں صحنوں میں آسمان کے پورے لشکر کے لئے قربان گاہیں بنوائیں۔
¶ وہ مجھے رب کے گھر کے اندرونی صحن میں لے گیا۔ رب کے گھر کے دروازے پر یعنی سامنے والے برآمدے اور قربان گاہ کے درمیان ہی 25 آدمی کھڑے تھے۔ اُن کا رُخ رب کے گھر کی طرف نہیں بلکہ مشرق کی طرف تھا، اور وہ سورج کو سجدہ کر رہے تھے۔
¶ اِس کے بعد میرا راہنما مجھے مشرقی دروازے سے ہو کر اندرونی صحن میں لایا۔ جب اُس نے یہ دروازہ ناپا تو معلوم ہوا کہ یہ بھی دیگر دروازوں جتنا بڑا ہے۔
¶ میرے راہنما نے اندرونی صحن کی پیمائش کی۔ اُس کی لمبائی اور چوڑائی پونے دو دو سَو فٹ تھی۔ قربان گاہ اِس صحن میں رب کے گھر کے سامنے ہی تھی۔
پھر اللہ کا روح مجھے اُٹھا کر اندرونی صحن میں لے گیا۔ وہاں مَیں نے دیکھا کہ پورا گھر رب کے جلال سے معمور ہے۔