¶ لازم ہے کہ بضلی ایل، اُہلیاب اور باقی کاری گر جن کو رب نے مقدِس کی تعمیر کے لئے حکمت اور سمجھ دی ہے سب کچھ عین اُن ہدایات کے مطابق بنائیں جو رب نے دی ہیں۔“
TSK
TSK · ۲-تیمُتھیُس 2:7
مراجع Treasury of Scripture Knowledge في کتابِ مقدّس.
¶ چنانچہ آج جان لے اور ذہن میں رکھ کہ رب آسمان اور زمین کا خدا ہے۔ کوئی اَور معبود نہیں ہے۔
آپ کو اسرائیل پر مقرر کرتے وقت رب آپ کو حکمت اور سمجھ عطا کرے تاکہ آپ رب اپنے خدا کی شریعت پر عمل کر سکیں۔
سلیمان نے جواب دیا، ”تُو میرے باپ داؤد پر بڑی مہربانی کر چکا ہے، اور اب تُو نے اُس کی جگہ مجھے تخت پر بٹھا دیا ہے۔
¶ تیرے ہاتھوں نے مجھے بنا کر مضبوط بنیاد پر رکھ دیا ہے۔ مجھے سمجھ عطا فرما تاکہ تیرے احکام سیکھ لوں۔
¶ تیرے احکام ابد تک راست ہیں۔ مجھے سمجھ عطا فرما تاکہ مَیں جیتا رہوں۔
بصیرت کے لئے آواز دے، چلّا کر سمجھ مانگ۔
¶ بَیل اپنے مالک کو جانتا اور گدھا اپنے آقا کی چرنی کو پہچانتا ہے، لیکن اسرائیل اِتنا نہیں جانتا، میری قوم سمجھ سے خالی ہے۔“
کسان کو خوب معلوم ہے کہ کیا کیا کرنا ہوتا ہے، کیونکہ اُس کے خدا نے اُسے تعلیم دے کر صحیح طریقہ سکھایا۔
¶ ”میری اِس بات پر خوب دھیان دو، ابنِ آدم کو آدمیوں کے حوالے کر دیا جائے گا۔“
¶ پھر اُس نے اُن کے ذہن کو کھول دیا تاکہ وہ اللہ کا کلام سمجھ سکیں۔
جب سچائی کا روح آئے گا تو وہ پوری سچائی کی طرف تمہاری راہنمائی کرے گا۔ وہ اپنی مرضی سے بات نہیں کرے گا بلکہ صرف وہی کچھ کہے گا جو وہ خود سنے گا۔ وہی تم کو مستقبل کے بارے میں بھی بتائے گا۔
ایک کو روح القدس حکمت کا کلام عطا کرتا ہے، دوسرے کو وہی روح علم و عرفان کا کلام۔
¶ بھائیو، ایک آخری بات، جو کچھ سچا ہے، جو کچھ شریف ہے، جو کچھ راست ہے، جو کچھ مُقدّس ہے، جو کچھ پسندیدہ ہے، جو کچھ عمدہ ہے، غرض، اگر کوئی اخلاقی یا قابلِ تعریف بات ہو تو اُس کا خیال رکھیں۔
اِن باتوں کو فروغ دیں اور اِن کے پیچھے لگے رہیں تاکہ آپ کی ترقی سب کو نظر آئے۔
¶ غور کریں کہ وہ کتنا عظیم تھا۔ ہمارے باپ دادا ابراہیم نے اُسے لُوٹے ہوئے مال کا دسواں حصہ دے دیا۔
¶ اپنے راہنماؤں کو یاد رکھیں جنہوں نے آپ کو اللہ کا کلام سنایا۔ اِس پر غور کریں کہ اُن کے چال چلن سے کتنی بھلائی پیدا ہوئی ہے، اور اُن کے ایمان کے نمونے پر چلیں۔
ایسا فخر آسمان کی طرف سے نہیں ہے، بلکہ دنیاوی، غیرروحانی اور ابلیس سے ہے۔
¶ ہم جانتے ہیں کہ اللہ کا فرزند آ گیا ہے اور ہمیں سمجھ عطا کی ہے تاکہ ہم اُسے جان لیں جو حقیقی ہے۔ اور ہم اُس میں ہیں جو حقیقی ہے یعنی اُس کے فرزند عیسیٰ مسیح میں۔ وہی حقیقی خدا اور ابدی زندگی ہے۔