¶ تب بادشاہ نے جِبعونیوں کو بُلا لیا تاکہ اُن سے بات کرے۔ اصل میں وہ اسرائیلی نہیں بلکہ اموریوں کا بچا کھچا حصہ تھے۔ ملکِ کنعان پر قبضہ کرتے وقت اسرائیلیوں نے قَسم کھا کر وعدہ کیا تھا کہ ہم آپ کو ہلاک نہیں کریں گے۔ لیکن ساؤل نے اسرائیل اور یہوداہ کے لئے جوش میں آ کر اُنہیں ہلاک کرنے کی کوشش کی تھی۔
TSK
TSK · اعمال 22:3
مراجع Treasury of Scripture Knowledge في کتابِ مقدّس.
تین دن کے بعد وہ آخرکار بیت المُقدّس میں پہنچے۔ وہاں عیسیٰ دینی اُستادوں کے درمیان بیٹھا اُن کی باتیں سن رہا اور اُن سے سوالات پوچھ رہا تھا۔
مرتھا کی ایک بہن تھی جس کا نام مریم تھا۔ وہ خداوند کے پاؤں میں بیٹھ کر اُس کی باتیں سننے لگی
ایک دن کچھ یہودی ستفنس سے بحث کرنے لگے۔ (وہ کرین، اسکندریہ، کلِکیہ اور صوبہ آسیہ کے رہنے والے تھے اور اُن کے عبادت خانے کا نام لِبرطینیوں یعنی آزاد کئے گئے غلاموں کا عبادت خانہ تھا۔)
جب بھائیوں کو معلوم ہوا تو اُنہوں نے اُسے قیصریہ پہنچا دیا اور جہاز میں بٹھا کر ترسس کے لئے روانہ کر دیا۔
اُن کے ہاتھ اُنہوں نے یہ خط بھیجا، ”یروشلم کے رسولوں اور بزرگوں کی طرف سے جو آپ کے بھائی ہیں۔ عزیز غیریہودی بھائیو جو انطاکیہ، شام اور کلِکیہ میں رہتے ہیں، السلام علیکم!
یہ سن کر اُنہوں نے اللہ کی تمجید کی۔ پھر اُنہوں نے کہا، ”بھائی، آپ کو معلوم ہے کہ ہزاروں یہودی ایمان لائے ہیں۔ اور سب بڑی سرگرمی سے شریعت پر عمل کرتے ہیں۔
¶ پولس کو علم تھا کہ عدالتِ عالیہ کے کچھ لوگ صدوقی ہیں جبکہ دیگر فریسی ہیں۔ اِس لئے وہ اجلاس میں پکار اُٹھا، ”بھائیو، مَیں فریسی بلکہ فریسی کا بیٹا بھی ہوں۔ مجھے اِس لئے عدالت میں پیش کیا گیا ہے کہ مَیں مُردوں میں سے جی اُٹھنے کی اُمید رکھتا ہوں۔“
وہ مجھے بڑی دیر سے جانتے ہیں اور اگر چاہیں تو اِس کی گواہی بھی دے سکتے ہیں کہ مَیں فریسی کی زندگی گزارتا تھا، ہمارے مذہب کے اُسی فرقے کی جو سب سے کٹر ہے۔
¶ تو کیا اِس کا یہ مطلب ہے کہ اللہ نے اپنی قوم کو رد کیا ہے؟ ہرگز نہیں! مَیں تو خود اسرائیلی ہوں۔ ابراہیم میرا بھی باپ ہے، اور مَیں بن یمین کے قبیلے کا ہوں۔
یہودی مذہب کے لحاظ سے مَیں اکثر دیگر ہم عمر یہودیوں پر سبقت لے گیا تھا۔ ہاں، مَیں اپنے باپ دادا کی روایتوں کی پیروی میں حد سے زیادہ سرگرم تھا۔
¶ وہ دوسرے لوگ آپ کی دوستی پانے کی پوری جد و جہد کر رہے ہیں، لیکن اُن کی نیت صاف نہیں ہے۔ بس وہ آپ کو مجھ سے جدا کرنا چاہتے ہیں تاکہ آپ اُن ہی کے حق میں جد و جہد کرتے رہیں۔