¶ ہر تیسرے سال اپنی تمام فصلوں کا دسواں حصہ لاویوں، پردیسیوں، یتیموں اور بیواؤں کو دینا تاکہ وہ تیرے شہروں میں کھانا کھا کر سیر ہو جائیں۔
TSK
TSK · اعمال 6:1
مراجع Treasury of Scripture Knowledge في کتابِ مقدّس.
¶ کیا مَیں نے پست حالوں کی ضروریات پوری کرنے سے انکار کیا یا بیوہ کی آنکھوں کو بجھنے دیا؟ ہرگز نہیں!
¶ جس دن تُو اپنی فوج کو کھڑا کرے گا تیری قوم خوشی سے تیرے پیچھے ہو لے گی۔ تُو مُقدّس شان و شوکت سے آراستہ ہو کر طلوعِ صبح کے باطن سے اپنی جوانی کی اوس پائے گا۔
¶ ایک وقت آئے گا کہ یعقوب جڑ پکڑے گا۔ اسرائیل کو پھول لگ جائیں گے، اُس کی کونپلیں نکلیں گی اور دنیا اُس کے پھل سے بھر جائے گی۔
تیرے باشندے اپنے ماں باپ کو حقیر جانتے ہیں۔ وہ پردیسی پر سختی کر کے یتیموں اور بیواؤں پر ظلم کرتے ہیں۔
¶ شریعت کے عالِمو اور فریسیو، تم پر افسوس! ریاکارو! تم لوگوں کے سامنے آسمان کی بادشاہی پر تالا لگاتے ہو۔ نہ تم خود داخل ہوتے ہو، نہ اُنہیں داخل ہونے دیتے ہو جو اندر جانا چاہتے ہیں۔
اپنی ملکیت اور مال فروخت کر کے اُنہوں نے ہر ایک کو اُس کی ضرورت کے مطابق دیا۔
لیکن جنہوں نے اُن کا پیغام سن لیا تھا اُن میں سے بہت سے لوگ ایمان لائے۔ یوں ایمان داروں میں مردوں کی تعداد بڑھ کر تقریباً 5,000 تک پہنچ گئی۔
توبھی خداوند پر ایمان رکھنے والے مرد و خواتین کی تعداد بڑھتی گئی۔
¶ یوں اللہ کا پیغام پھیلتا گیا۔ یروشلم میں ایمان داروں کی تعداد نہایت بڑھتی گئی اور بیت المُقدّس کے بہت سے امام بھی ایمان لے آئے۔
پطرس اُٹھ کر اُن کے ساتھ چلا گیا۔ وہاں پہنچ کر لوگ اُسے بالاخانے میں لے گئے۔ تمام بیواؤں نے اُسے گھیر لیا اور روتے چلّاتے وہ ساری قمیصیں اور باقی لباس دکھانے لگیں جو تبیتا نے اُن کے لئے بنائے تھے جب وہ ابھی زندہ تھی۔
لیکن اُن میں سے کرین اور قبرص کے کچھ آدمی انطاکیہ شہر جا کر یونانیوں کو بھی خداوند عیسیٰ کے بارے میں خوش خبری سنانے لگے۔
¶ کیا وہ عبرانی ہیں؟ مَیں بھی ہوں۔ کیا وہ اسرائیلی ہیں؟ مَیں بھی ہوں۔ کیا وہ ابراہیم کی اولاد ہیں؟ مَیں بھی ہوں۔
اگر کسی بیوہ کے بچے یا پوتے نواسے ہوں تو اُس کی مدد کرنا اُن ہی کا فرض ہے۔ ہاں، وہ سیکھیں کہ خدا ترس ہونے کا پہلا فرض یہ ہے کہ ہم اپنے گھر والوں کی فکر کریں اور یوں اپنے ماں باپ، دادا دادی اور نانا نانی کو وہ کچھ واپس کریں جو ہمیں اُن سے ملا ہے، کیونکہ ایسا عمل اللہ کو پسند ہے۔
¶ ایک دوسرے سے بھائیوں کی سی محبت رکھتے رہیں۔
یا کیا آپ سمجھتے ہیں کہ کلامِ مُقدّس کی یہ بات بےتُکی سی ہے کہ اللہ غیرت سے اُس روح کا آرزومند ہے جس کو اُس نے ہمارے اندر سکونت کرنے دیا؟