¶ فصیل پر کھڑے لوگ خاموش رہے۔ اُنہوں نے کوئی جواب نہ دیا، کیونکہ بادشاہ نے حکم دیا تھا کہ جواب میں ایک لفظ بھی نہ کہیں۔
TSK
TSK · عاموس 5:13
مراجع Treasury of Scripture Knowledge في کتابِ مقدّس.
¶ مَیں ایسا شخص بن گیا ہوں جو نہ سنتا، نہ جواب میں اعتراض کرتا ہے۔
نیز، کوئی بھی انسان نہیں جانتا کہ مصیبت کا وقت کب اُس پر آئے گا۔ جس طرح مچھلیاں ظالم جال میں اُلجھ جاتی یا پرندے پھندے میں پھنس جاتے ہیں اُسی طرح انسان مصیبت میں پھنس جاتا ہے۔ مصیبت اچانک ہی اُس پر آ جاتی ہے۔
نبی کے پاس پہنچ کر اُنہوں نے حِزقیاہ کا پیغام سنایا، ”آج ہم بڑی مصیبت میں ہیں۔ سزا کے اِس دن اسوریوں نے ہماری سخت بےعزتی کی ہے۔ ہمارا حال دردِ زہ میں مبتلا اُس عورت کا سا ہے جس کے پیٹ سے بچہ نکلنے کو ہے، لیکن جو اِس لئے نہیں نکل سکتا کہ ماں کی طاقت جاتی رہی ہے۔
پھر جب کوئی رشتے دار آئے تاکہ لاشوں کو اُٹھا کر دفنانے جائے اور دیکھے کہ گھر کے کسی کونے میں ابھی کوئی چھپ کر بچ گیا ہے تو وہ اُس سے پوچھے گا، ”کیا آپ کے علاوہ کوئی اَور بھی بچا ہے؟“ تو وہ جواب دے گا، ”نہیں، ایک بھی نہیں۔“ تب رشتے دار کہے گا، ”چپ! رب کے نام کا ذکر مت کرنا، ایسا نہ ہو کہ وہ تجھے بھی موت کے گھاٹ اُتارے۔“
¶ کسی پر بھی بھروسا مت رکھنا، نہ اپنے پڑوسی پر، نہ اپنے دوست پر۔ اپنی بیوی سے بھی بات کرنے سے محتاط رہو۔
اِس سے پہلے کہ مقررہ دن آ کر تجھے بھوسے کی طرح اُڑا لے جائے۔ ایسا نہ ہو کہ تم رب کے سخت غصے کا نشانہ بن جاؤ، کہ رب کا غضب ناک دن تم پر نازل ہو جائے۔
¶ چنانچہ بڑی احتیاط سے اِس پر دھیان دیں کہ آپ زندگی کس طرح گزارتے ہیں — بےسمجھ یا سمجھ دار لوگوں کی طرح۔
¶ لیکن یہ بات جان لیں کہ آخری دنوں میں ہول ناک لمحے آئیں گے۔