¶ یہ سب کچھ اُس وقت ہوا جب نوح 600 سال کا تھا۔ دوسرے مہینے کے 17ویں دن زمین کی گہرائیوں میں سے تمام چشمے پھوٹ نکلے اور آسمان پر پانی کے دریچے کھل گئے۔
TSK
TSK · عاموس 5:8
مراجع Treasury of Scripture Knowledge في کتابِ مقدّس.
صبح سویرے ہی رب نے بادل اور آگ کے ستون سے مصر کی فوج پر نگاہ کی اور اُس میں ابتری پیدا کر دی۔
وہی دُبِ اکبر، جوزے، خوشۂ پروین اور جنوبی ستاروں کے جھرمٹوں کا خالق ہے۔
یوں وہ اُنہیں لوگوں کی تربیت کرنے، اپنی زمین کو برکت دینے یا اپنی شفقت دکھانے کے لئے بھیج دیتا ہے۔
کیا تُو خوشۂ پروین کو باندھ سکتا یا جوزے کی زنجیروں کو کھول سکتا ہے؟
¶ سیلاب نے اُسے لباس کی طرح ڈھانپ دیا، اور پانی پہاڑوں کے اوپر ہی کھڑا ہوا۔
¶ اللہ کے حکم پر مصر پر تاریکی چھا گئی، ملک میں اندھیرا ہو گیا۔ لیکن اُنہوں نے اُس کے فرمان نہ مانے۔
مَیں اندھوں کو ایسی راہوں پر لے چلوں گا جن سے وہ واقف نہیں ہوں گے، غیرمانوس راستوں پر اُن کی راہنمائی کروں گا۔ اُن کے آگے مَیں اندھیرے کو روشن اور ناہموار زمین کو ہموار کروں گا۔ یہ سب کچھ مَیں سرانجام دوں گا، ایک بات بھی ادھوری نہیں رہ جائے گی۔
”جو سب کچھ خلق کرتا، تشکیل دیتا اور قائم رکھتا ہے اُس کا نام رب ہے۔ یہی رب فرماتا ہے،
¶ رب قادرِ مطلق فرماتا ہے، ”اُس دن مَیں ہونے دوں گا کہ سورج دوپہر کے وقت غروب ہو جائے۔ دن عروج پر ہی ہو گا تو زمین پر اندھیرا چھا جائے گا۔
¶ اندھیرے میں بیٹھی قوم نے ایک تیز روشنی دیکھی، موت کے سائے میں ڈوبے ہوئے ملک کے باشندوں پر روشنی چمکی۔“