¶ پھر رب نے موسیٰ سے کہا، ”فرعون کے پاس جا، کیونکہ مَیں نے اُس کا اور اُس کے درباریوں کا دل سخت کر دیا ہے تاکہ اُن کے درمیان اپنے معجزوں اور اپنی قدرت کا اظہار کر سکوں
TSK
TSK · خروج 20:2
مراجع Treasury of Scripture Knowledge في کتابِ مقدّس.
¶ آنے والے دنوں میں جب تمہارا بیٹا پوچھے کہ اِس کا کیا مطلب ہے تو اُسے جواب دینا، ’رب اپنی عظیم قدرت سے ہمیں مصر کی غلامی سے نکال لایا۔
مَیں رب ہوں۔ مَیں تمہیں مصر سے نکال لایا ہوں تاکہ تمہارا خدا بنوں۔ لہٰذا مُقدّس رہو، کیونکہ مَیں قدوس ہوں۔
پھر تمہاری اولاد جانے گی کہ اسرائیلیوں کو مصر سے نکالتے وقت مَیں نے اُنہیں جھونپڑیوں میں بسایا۔ مَیں رب تمہارا خدا ہوں۔“
چونکہ اسرائیلی میرے خادم ہیں جنہیں مَیں مصر سے نکال لایا اِس لئے اُنہیں غلامی میں نہ بیچا جائے۔
¶ اپنے لئے بُت نہ بنانا۔ نہ اپنے لئے دیوتا کے مجسمے یا پتھر کے مخصوص کئے ہوئے ستون کھڑے کرنا، نہ سجدہ کرنے کے لئے اپنے ملک میں ایسے پتھر رکھنا جن میں دیوتا کی تصویر کندہ کی گئی ہو۔ مَیں رب تمہارا خدا ہوں۔
¶ ”مَیں رب تیرا خدا ہوں جو تجھے ملکِ مصر کی غلامی سے نکال لایا۔
¶ سن اے اسرائیل! رب ہمارا خدا ایک ہی رب ہے۔
اُسے ضرور پتھروں سے سزائے موت دینا، کیونکہ اُس نے تجھے رب تیرے خدا سے دُور کرنے کی کوشش کی، اُسی سے جو تجھے مصر کی غلامی سے نکال لایا۔
¶ جب تُو جنگ کے لئے نکل کر دیکھتا ہے کہ دشمن تعداد میں زیادہ ہیں اور اُن کے پاس گھوڑے اور رتھ بھی ہیں تو مت ڈرنا۔ رب تیرا خدا جو تجھے مصر سے نکال لایا اب بھی تیرے ساتھ ہے۔
اُس وقت مَیں نے تمہیں بتایا، ’مَیں رب تمہارا خدا ہوں۔ جن اموریوں کے ملک میں تم رہ رہے ہو اُن کے دیوتاؤں کا خوف مت ماننا۔‘ لیکن تم نے میری نہ سنی۔“
¶ یہ سب کچھ اِس لئے ہوا کہ اسرائیلیوں نے رب اپنے خدا کا گناہ کیا تھا، حالانکہ وہ اُنہیں مصری بادشاہ فرعون کے قبضے سے رِہا کر کے مصر سے نکال لایا تھا۔ وہ دیگر معبودوں کی پوجا کرتے
¶ اِسی لئے رب اُس کے خدا نے اُسے شام کے بادشاہ کے حوالے کر دیا۔ شام کی فوج نے اُسے شکست دی اور یہوداہ کے بہت سے لوگوں کو قیدی بنا کر دمشق لے گئی۔ آخز کو اسرائیل کے بادشاہ فِقَح بن رملیاہ کے حوالے بھی کر دیا گیا جس نے اُسے شدید نقصان پہنچایا۔
¶ مصیبت میں تُو نے آواز دی تو مَیں نے تجھے بچایا۔ گرجتے بادل میں سے مَیں نے تجھے جواب دیا اور تجھے مریبہ کے پانی پر آزمایا۔ (سِلاہ)
¶ لیکن میری قوم نے میری نہ سنی، اسرائیل میری بات ماننے کے لئے تیار نہ تھا۔
¶ رب فرماتا ہے، ”اُس وقت مَیں تمام اسرائیلی گھرانوں کا خدا ہوں گا، اور وہ میری قوم ہوں گے۔“
اُنہیں بتا، ’رب قادرِ مطلق فرماتا ہے کہ اسرائیلی قوم کو چنتے وقت مَیں نے اپنا ہاتھ اُٹھا کر اُس سے قَسم کھائی۔ ملکِ مصر میں ہی مَیں نے اپنے آپ کو اُن پر ظاہر کیا اور قَسم کھا کر کہا کہ مَیں رب تمہارا خدا ہوں۔
مَیں بار بار نبیوں کی معرفت تم سے ہم کلام ہوا، مَیں نے اُنہیں متعدد رویائیں دکھائیں اور اُن کے ذریعے تمہیں تمثیلیں سنائیں۔“
کیا اللہ صرف یہودیوں کا خدا ہے؟ غیریہودیوں کا نہیں؟ ہاں، غیریہودیوں کا بھی ہے۔